http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 28 December, 2007, 05:48 GMT 10:48 PST

شاہ زیب جیلانی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بینظیر کو اخبارات کا خراج عقیدت

پاکستان میں مختلف مکاتبِ فکر کے تمام اخبارات نے اپنی اٹھائیس دسمبر کی اشاعت میں قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

اردو کے سرکردہ قومی اخبارات نے بینظیر بھٹو کو ’شہید‘ قرار دیتے ہوئے ان کی زندگی اور سیاسی کیریئر پر خصوصی ایڈیشن شائع کیے ہیں۔

روزنامہ جنگ نے بینظیر بھٹو کی سیاسی اور خاندانی زندگی کی تصاویر پر مشتمل چار صفحات کا خصوصی شمارہ شائع کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے ’بھٹو خاندان کا ایک اور فرد سیاست کی جنگ میں زندگی کی بازی ہار گیا۔‘

روزنامہ خبریں اخبار کی شہ سرخی ہے ’دخترِ مشرق بینظیر بھٹو شہید‘ جبکہ اخبار نوائے وقت لکھتا ہے ’لیاقت باغ میں جلسے کے بعد خودکش حملہ اور فائرنگ، بینظیر شہید‘۔

نوائے وقت نے اپنے اداریے میں بینظیر بھٹو کے قتل کو ایک قومی سانحہ قرار دیا ہے اور ایک خصوصی سپلیمنٹ شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے ’روشن منزلوں کی راہیں موت کی تاریکی میں کھو گئیں، بینظیر بھٹو کو بھی بارود نے نگل لیا۔‘

اردو روزنامہ ایکسپریس کی شہ سرخی ہے ’بینظیر تیس جانثاروں سمیت شہید، ملک سوگ کے اندھیرے میں ڈوب گیا‘۔

انگریزی اخبار دی نیوز نے صفحۂ اوّل پر بینظیر بھٹو کی اپنے تینوں بچوں کے ساتھ تصویر شائع کی ہے جبکہ اخبار ڈیلی ٹائمز نے اپنے صفحۂ اّول کو سیاہ رنگ میں ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر کے عکس میں شائع کیا ہے اور اس کی شہ سُرخی ہے ’دخترِ مشرق قتل‘۔

اخبار نے بینظیر بھٹو کی تصویر بھی شائع کی ہے جس میں ان کے بازو پر امامِ ضامن بندھا ہوا ہے۔ تصویر کے نیچے اخبار نے بینظیر بھٹو کے خاندان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تعزیتی پیغام شائع کیا ہے۔

اخبارات نے لیاقت باغ میں بینظیر بھٹو کے آخری خطاب کے اقتباسات شائع کیے ہیں اور قتل کے بعد ملک گیر مظاہروں اور جلاؤ گھیراؤ کی تفصیلات تصاویر سمیت شائع کی ہیں۔

کئی ایک اخبارات کے مطابق دم توڑنے سے پہلے بینظیر بھٹو کے منہ سے نکلنے والا آخری لفظ ’اللہ‘ تھا۔