http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 27 December, 2007, 18:39 GMT 23:39 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پنجاب: مسلم لیگ قاف پر حملے

بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پنجاب بھر میں مسلم لیگ قاف کے انتخابی دفاتر پر حملے کیے گئے ہیں۔ متعدد میں توڑ پھوڑ ہوئی اور چند ایک کو نذِر آتش کیا گیا ہے۔ مشتعل افراد نے صوبے بھر میں مسلم لیگ قاف کے انتخابی جھنڈے، پوسٹرز اور بینرز پھاڑ دیئے ہیں یا نذرِ آتش کر دیئے ہیں۔

بےنظیر کی ہلاکت، ملک گیر احتجاج
دھماکے کے فوراً بعد کے مناظر
آپ کی رائے: بینظیر پر قاتلانہ حملہ
حملے سے پہلے، حملے سے بعد
بینظیر بھٹو– اہم سیاسی واقعات

مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الہی اور شجاعت حسین کی لاہور میں رہائش گاہ پر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ شہر کے ظہور الہیٰ روڈ کو، جہاں ان کی رہائش گاہ واقع ہے، دونوں طرف سے بند کردیا گیا ہے اور سینکڑوں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

مسلم لیگ قاف لاہور کے صدر میاں منیر نے کہا ہے کہ لاہور بھر میں ان کے پوسٹرز اور بینرز پھاڑے گئے ہیں جس کے بعد انہوں نے مسلم لیگ کے کارکنوں کو کہا ہے کہ وہ اپنے دفاتر بند کردیں اور گھروں کو چلے جائیں۔

لاہور پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ شاہدرہ میں سابق گورنر پنجاب اور مسلم لیگ قاف کے بانی میاں اظہر کے انتخابی دفتر کو آگ لگائی گئی۔ فردوس مارکیٹ اور کوٹ لکھپت میں دو ایسے گھروں کو آگ لگا دی گئی جن کے مکینوں کےبارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مسلم لیگ قاف کے حامی تھے۔

گوجرانوالہ میں سینکڑوں افراد نے جلوس نکالے اور شہر کے بیشتر علاقوں میں مسلم لیگ قاف کے پوسٹر، بینر اور ہورڈنگز توڑ پھوڑ دیئے گئے۔ رحیم یار خان، ملتان، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اور لیّہ سے بھی مسلم لیگی بینروں کے پھاڑے جانے اور ان کے انتخابی دفاتر پر حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پنڈال میں موجود سٹیج، کرسیوں، پوسٹرز اور بینرز کو پٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی۔ پیپلز پارٹی لاہورکے ترجمان زکریا بٹ نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی روزانہ بے نظیر بھٹو کے خلاف بیان دیتے تھے اور نازیباالفاظ استعمال کرتے تھے۔ اسی کے ردعمل میں پیپلز پارٹی کے کارکن کا مسلم لیگ قاف کے خلاف اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔

مسلم لیگ قاف کے مرکزی قائدین ٹیلی فون پر رابطوں سے اجتناب کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ قاف لاہور کے صدر میاں منیر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ قاف کے خلاف لوگوں کا ردعمل سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ تو پیار سے الیکشن لڑ رہے تھے اور صرف یہ کہہ رہے تھے کہ جو اکثریت لے جائے اسے ہی فاتح تسلیم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کارکنوں کو ہدایات دے چکے ہیں کہ وہ پرسکون رہیں اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے اظہار ہمدردی کریں۔