Tuesday, 25 December, 2007, 11:20 GMT 16:20 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان کے شہر مسلم باغ میں آل پارٹیزڈیموکریٹک موومنٹ کے قائدین نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے ان تمام ججوں کی قربانی کو سراہتے ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا اور ان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے جہاں فرد واحد اپنے من پسند فیصلوں سے تمام اداروں کو یرغمال بنالے۔
کوئٹہ سے تقریباً نوے کلومیٹر دور شمال میں واقع شہر مسلم باغ میں ایک بڑے جلسہ عام سے اے پی ڈی ایم کے کنوینر محمود خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور دیگر قائدین نے خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ بلوچستان، وزیرستان، سوات اور لال مسجد میں جو کچھ ہوا ہمارے ان سیاسی قائدین نے بھلا دیا ہے جو انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ انھیں اپنے ساتھی عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان اور جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کے فیصلے پر افسوس ہے جو انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کے مطابق ان انتخابات کا کیا فائدہ ہے۔ ’ایک ظلم کی بادشاہی ہے جہاں ساٹھ ججوں کو اس لیے نوکری سے نکال دیا کہ وہ ظلم کی بادشاہی تسلیم نہیں کر رہے تھے۔‘
نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی اور میر بالاچ مری کا قتل اور ہزاروں بلوچوں کی ماورائے آئین اور قانون گرفتاری کے علاوہ بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے عوام کی خاطر قربانی دی ہے اور وہ عوام میں کھڑے ہیں اس لیے ہم لوگ بھی ان کا ساتھ دیں گے اور ان انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔
بلوچستان کے شہر ژوب میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا جلسہ بھی منعقد ہوا ہے جبکہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے انتخابات کے انعقاد کے خلاف ستائیس تاریخ سے احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔