Thursday, 20 December, 2007, 01:28 GMT 06:28 PST
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیاسی رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ملک میں فوج کے سربراہ نے عدلیہ کو برخاست کیا تھا اور اب فوج کے موجودہ سربراہ اسے بحال کر سکتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے نظربندی کی تین روزہ معطلی کے بعد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ دو نومبر کے حالات پر واپس جانے کے لیے فوج کے سربراہ کو حکم دینا ہوگا کیونکہ’تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاد کا حکم اس وقت کے فوجی سربراہ نے دیا تھا جو جنرل مشرف تھے اور اب جنرل کیانی فوج کے سربراہ ہیں اور وہی یہ سارا عمل واپس کر سکتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’پی سی او آرمی چیف کا حکم تھا اور وہی اسے واپس لے سکتا ہے‘۔
بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ’ہم پر امن اور عدم تشدد کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ عوام ہمارے ساتھ ہیں، ان کے دل ہمارے ساتھ ہیں۔ آج بھی اس الیکشن کا سب سے بڑا ایشو جسٹس افتخار اور دیگر جج ہیں اور یہ ایشو ووٹوں پر اثر انداز ہوگا‘۔
انہوں نے انتخابات کے انعقاد کو توجہ بٹانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی الیکشن کے بعد حکومت کو دو سے تین ہفتے کا وقت دیں گے اور اگر اس دوران عدلیہ کو دو نومبر کی حالت پر بحال نہ کیا گیا تو تحریک چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ’مارچ میں ایک جج اور اس کا ایک ڈرائیور تھا، اب پنتالیس جج ہیں اور ان کے ہزار ہار ڈرائیور ہوں گے‘۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں کوئی ابہام نہیں کہ آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات میں دھاندلی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کے حوالے سے انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو اعتماد میں لیا اور انہیں بتایا کہ وہ وکیل ہونے کے ناتے بائیکاٹ کے فیصلے سے نہیں پھر سکتے۔