http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 17 December, 2007, 01:16 GMT 06:16 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’گلے کاٹنے کا فتوی دینے والا گرفتار‘

پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امام ڈھیری مرکز کو زمین وقف کرنے والے عسکریت پسندوں کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے چچا اور ان کے بیٹوں سمیت چودہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ مولانا فضل اللہ کے نائب اوران کے ایک اہم ساتھی حاجی مسلم خان کے گھر کو مقامی لوگوں نے مسمار کر دیا ہے۔

سوات میڈیا سنٹر کے نئے ترجمان حسن جان نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران چودہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن میں مولانا فضل اللہ کے اہم ساتھی بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق دس افراد کو گزشتہ روز جبکہ چار افراد کو اتوار کو فضا گٹ چیک پوسٹ سے حراست میں لیا گیا ہے۔

ترجمان کے بقول گرفتار ہونے والوں میں مولانا عبد الشکور بھی شامل ہیں جنہوں نےان کےمطابق سکیورٹی فورسز کےاہلکاروں کے گلے کاٹنے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔

حسن جان نے مزید بتایا کہ گزشتہ شام کوزہ بانڈئی کے مقام پر مولانا فضل اللہ کے نائب اور ان کے ایک اہم ساتھی حاجی مسلم خان کے گھرکو مقامی لوگوں نے مسمار کردیا ہے۔ ان کے مطابق مقامی لوگوں نے خود جمع ہوکر گھر پر ہلہ بول دیا اور ان کو مسمار کردیا۔ تاہم مقامی ذرائع کا کہنا کہ حاجی مسلم خان کے گھر کوسکیورٹی فورسز نے مسمار کیا ہے۔

ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے پیر کلی کے مقام پر بھی مولانا فضل اللہ کے ایک اہم ساتھی کے گھر کو مسمار کیا ہے۔

یادرہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل سکیورٹی فورسز کے جانب سے امام ڈھیری مرکز کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد وہاں مولانا فضل اللہ اور ان کے ترجمان سراج الدین کے گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر تباہ کیا گیا تھا۔

سوات میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً دو سو عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔