Monday, 17 December, 2007, 19:35 GMT 00:35 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور ان کے بھائی سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف براہ راست سماعت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی اپیل منظور کر کے شریف برادران کے ساتھ خصوصی سلوک نہیں کرنا چاہتے۔
اپنے فیصلے میں الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ آفیسرز کو امیدواروں کی درخواستیں منظور یا مسترد کرنے کے اختیارات دیئے گئے ہیں لہذا ان اختیارات کو کسی مخصوص کیس کیلیے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
پیر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے انتخابات میں بطور امیدواران کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف میاں برادران کی براہ راست درخواست کی سماعت کی گئی۔
سماعت چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق اور ممبر پنجاب جسٹس نسیم سکندر نے کی۔
میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی طرف سے ان کے وکیل اکرم شیخ پیش ہوئے جنہوں نے موقف اختیار کیا کہ میاں برادران کے کاغذات نامزدگی بلاوجہ مسترد کیے گئے ہیں اور انہیں منظور کیا جائے۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور انہیں منظور یا مسترد کرنے کے اختیارات ریٹرننگ آفیسرز کو تفویض کر رکھے ہیں، الیکشن کمیشن کے قواعد میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کے مطابق ریٹرننگ آفیسرز کے اختیارات سلب کر کے چیف الیکشن کمشنر براہ راست کارروائی کرے۔
انہوں نے کہاکہ انتخابی عمل میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف سے خصوصی سلوک روا نہیں رکھا جا سکتا اور اگر ایسا کیا گیا تو دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے اعتراض اٹھ سکتا ہے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔