Monday, 17 December, 2007, 14:24 GMT 19:24 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد پولیس نے ’لندن طیارہ سازش کیس‘ میں مطلوب راشد رؤف کے ماموں اور خالو کو حراست میں لے لیا ہے۔ راشد رؤف سنیچر کو پولیس حراست سے فرار ہوگئے تھے۔
اسلام آباد پولیس نے الزام لگایا ہے کہ راشد رؤف کے فرار ہونے کے منصوبے میں ان کے ماموں محمد رفیق کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ وہ گاڑی بھی تفتیش کے لیے قبضہ میں لے لی گئی ہے جس پر راشد رؤف کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد اڈیالہ جیل واپس لے جایا جا رہا تھا۔
ایس ایس پی اسلام آباد سید کلیم امام نے بی بی سی کو بتایا کہ راشد رؤف کے ماموں محمد رفیق کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جبکہ خالو ظہور کو راولپنڈی سے حراست میں لیاگیا ہے۔
واقعہ کے روز ان پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی تھانہ بارہ کہو کے قتل کے ملزمان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کی عدالت میں پیش کرنے پر لگائی گئی تھی۔
جس روبکار کے تحت راشد رؤف کو اڈیالہ جیل سے پولیس کے حوالے کیا گیا تھا اس پر کانسٹیبل نوابزادہ کے دستخط ہیں اور پھر راشد رؤف کو بھی عام ملزموں کے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر اسلام آباد لایا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والے افسران اڈیالہ جیل کے حکام سے بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں کہ ایک کانسٹیبل کے کہنے پر اتنا اہم ملزم کیسے حوالے کردیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق راشد رؤف کو اسلام آباد کی عدالت میں لانے والی پولیس وین قیدیوں کو لیکر واپس اڈیالہ جیل جاچکی تھی ۔ نوابزادہ اور طفیل نے تفتیشی ٹیم کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ راشد رؤف کو عدالت میں پیشی کے بعد ایک ٹیکسی میں بٹھا کر لے گئے تھے۔
اس دوران ملزم نے اڈیالہ روڈ پر واقع گلشن آباد گاؤں کے قریب کھانا کھانے اور نماز پڑھنے کی درخواست کی اور پھر وہاں سے فرار ہوگیا۔ اپنے پہلے بیان میں دونوں پولیس اہلکاروں نے کہا تھا کہ راشد رؤف کچہری سے فرار ہوئے۔