Sunday, 16 December, 2007, 10:23 GMT 15:23 PST
پاکستان کا کہنا ہے کہ پولیس کی حراست سے فرار ہو جانے والے راشد رؤف کی تلاش جاری ہے جبکہ اسلام آباد میں برطانوی سفارتخانے اس واقعہ کی تفصیلات مانگی ہیں۔
پاکستانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈیر جاوید اقبال چیمہ نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اور دوسری تحقیقاتی ایجنسیوں کے اہلکاروں پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو یہ تفتیش کرے گی کہ راشد رؤف کیسے فرار ہوئے اور اس حوالے سے کون موردِ الزام ٹھہرتا ہے۔
پاکستان میں برطانوی سفارتخانے کی ترجمان لورا ڈیویز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے فوری وضاحت مانگی ہے کہ یہ (راشد رؤف کا فرار) کیسے ہوا؟
راشد رؤف سنیچر کو مبینہ طور پر اس وقت فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جب ایک عدالت میں پیش کرنے کے بعد پولیس انہیں اڈیالہ جیل واپس
لا رہی تھی۔
|
مطلوب افراد کا تبادلہ
|
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راشد رؤف کے برطانیہ میں ایک قتل کے مقدمے میں ان پر فرد جرم کے کاغذات موصول ہوئے تھے جو ان کے وکیل کو دے دیےگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ راشد رؤف کے وکیل نے ان کی ضمانت کی درخواست بھی دی تھی جس کی ابتدائی سماعت کے بعد سماعت چھبیس دسمبر تک ملتوی کر دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب راشد رؤف کو عدالت میں پیش کیا گیا تو انہیں ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے کہا کہ مذکورہ ملزم اس کارروائی کے دوران عدالت میں موجود رہا اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد پولیس اہلکار اسے ہتھکڑی لگا کر لے گئے۔
انہوں نے کہا کہ راشد روف کو برطانیہ کے حوالے کرنے سے متعلق ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران برطانوی ہائی کمیشن کا ایک پولیس افسر اور ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل بھی عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر استغاثہ کی جانب سے پیش ہوئے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ پاکسان اور برطانیہ میں تو مجرموں کے تبادلوں کا کوئی معاہدہ نہیں ہے، ظفر اقبال نے کہا کہ برطانیہ کی
طرف سے راشد رؤف کو ان کے حوالے کرنے کے حوالے سے ایک درخواست آئی تھی جس کو وزارت داخلہ نے ابتدائی کارروائی کے لیے اسلام آباد
کی انتظامیہ کو بھجوا دیا تھا۔ ان کے بقول اس درخواست پر کارروائی ابتدائی مراحل میں ہے اور مجسٹریٹ کے فیصلے کو اعلی عدالتوں
میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
|
طیارہ سازش کیس
|
ادھر راشد رؤف جیسے اہم ملزم کی پولیس کی تحویل سے فرار ہونے کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری قاضی امتیاز کی سربراہی میں ایک تین رکنی کیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے مرزا یسین بیگ اور اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عامر احمد علی شامل ہیں۔
پاکستانی نژاد برطانوی شہری راشد رؤف کو گزشتہ سال اگست میں پاکستان میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان سے مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔ تب یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ وہ لندن سے امریکہ جانے والے دس طیاروں کو تباہ کرنے کی ایک ناکام سازش کرنے میں بھی ملوث ہیں۔
راشد رؤف کو ایسے شخص کے طور پر بھی جانا جاتا ہے جن کی وجہ سے گزشتہ سال پوری دنیا کے ہوائی اڈوں پر حفاظتی انتظامات سخت کرنے پڑے تھے، جن میں مائع اشیا جہاز پر ساتھ لے جانے پر پابندی بھی شامل تھی۔
برطانوی حکام ’لندن طیارہ سازش کیس‘ کے حوالے سے پاکستان سے راشد رؤف کی حوالگی کا مطالبہ کرتے آئے ہیں لیکن پاکستان کا کہنا تھا کہ راشد رؤف پر انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج ہے، جس کا فیصلہ ہوئے بغیر انہیں کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم ایک عدالت نے راشد رؤف کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ختم کر دی تھیں، لیکن برطانیہ کی طرف سے حوالگی کی درخواست پر کارروائی
کے سلسلے میں انہیں جیل ہی میں رکھا جا رہا تھا۔
![]() |
|
| راشد رؤف کی بیوی نے اپنی بچی کے ساتھ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا |
دہشت گردی کا مقدمہ ختم ہونے کے بعد راشد رؤف کا خاندان ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ان کی بیوی سائرہ رؤف نے اس حوالے سے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب بھی کیا تھا۔
برطانوی اخبارات میں پچھلے کچھ عرصہ سے ایسی خبریں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہی تھیں کہ برطانیہ اور پاکستان میں راشد رؤف کے بدلے حیربیار مری سمیت برطانیہ میں مقیم بعض بلوچ علیحدگی پسندوں کی حوالگی کے لیے بات چیت ہورہی ہے۔ تاہم برطانوی وزارتِ خارجہ نے اس کی تردید کی ہے۔
تاہم راشد رؤف کے مبینہ فرار کا واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب لندن میں حیربیار مری اور ان کے ساتھی فیض بلوچ کو گرفتار کر کے ان کے خلاف برطانیہ سے باہر کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کے لیے اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔