عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ ان کے دور حکومت میں طالبان کو قندھار تک محدود رکھاگیا تھا لیکن ان کے بعد طالبان افغانستان میں پھیل گئے۔
افغانستان پر امریکی حملے کے حوالے سے بینظیر بھٹو نے کہا کہ ’امریکہ پر حملے کی دھمکی دی جاتی ہے تو کیا جوابی کارروائی نہیں ہوگی؟‘
کوئٹہ سے واپس جاتے ہوئے ائر پورٹ پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا کہ طالبان انہوں نے نہیں بنائے بلکہ ان کے دور میں آئے لیکن اس دور میں طالبان نے خواتین پر تشدد نہیں کیا یا انہیں کام سے نہیں روکتے تھے اور ان کے دور میں احمد شاہ مسعود اور دیگر افغان قائدین سے طالبان نے مذاکرات کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش تھی کے طالبان اقوام متحدہ کے ذریعے افغانستان میں وسیع تر حکومت قائم کریں اور اقتدار عوام کے جائز نمائندوں کے حوالے کریں۔ بینظیر بھٹو کے مطابق طالبان کو کہا گیا تھا کہ وہ قندھار سے آگے نہ جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملا عمر زندہ ہیں تو انہیں یہ بات یاد ہو گی۔
بینظیر بھٹو نے مزید کیا کہ ’پیپلز پارٹی کے جانے کے بعد طالبان تبدیل ہوئے، انہیں مشورے دیے گئے اور اسامہ بن لادن کو افغانستان
لایا گیا۔ اسامہ نے اپنے آپ کو برباد کیا۔ کس نے اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ یہاں آئیں۔ اگر ہمارے پڑوسی ملک کے اندر جنگ ہو تو اس
کا رد عمل ہمارے ملک میں ہوگا۔‘ پیپلز پارٹی کی رہنماء کا کہنا تھا کہ یہ باتیں انہوں نے قائد حزب اختلاف کے طور پر پارلیمنٹ
میں کہی تھیں۔
|
اسامہ نے برباد کیا
|
بینظیر بھٹو نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود مختار نہیں ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ڈیرہ بگٹی کے امیدوار کو مارا جاتا ہے اور غائب کر دیا جاتا ہے لیکن کمیشن کوئی کارروائی نہیں کرتا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سرفراز بگٹی کے والد غلام قادر بگٹی نے ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ عدالت کے احکامات کے مطابق سرفراز کاغذات نامزدگی جمع کرانے جا رہے تھے کہ ان پر پھر تشدد کیا گیا۔
بینظیر بھٹو نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر صفدر سرکی سمیت تمام گمشدہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے۔