Friday, 14 December, 2007, 14:55 GMT 19:55 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد
جو بات صدر پرویز مشرف اور ان کی اے ٹیم کے سربراہ چوہدھری شجاعت حسین ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد متعدد بار دہرا چکے ہیں، کم و بیش وہی بات تیرہ دسمبر کو بی ٹیم کی سربراہ بینظیر بھٹو کے منہ سے بھی نکل گئی یعنی ہم آزاد عدلیہ کے تو حق میں ہیں مگر ایمرجنسی کے تحت برطرف ججوں کی بحالی کے حق میں نہیں۔
جبکہ اسٹیبلشمنٹ کی سی ٹیم کے قائد میاں نواز شریف جو جلاوطنی کے آخری دن تک جنرل مشرف کے تحت ہونے والے کسی بھی طرح کے انتخاب کو ایک ڈھونگ اور فریب قرار دے رہے تھے، پاکستان آنے کے بعد نہ صرف صدر مشرف پر ان کے براہ راست حملوں کی شدت میں کمی آ گئی ہے بلکہ وہ انتخابات میں احتجاجی شرکت کے مرحلے تک بھی آن پہنچے ہیں۔ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں معاملات مزید بہتر ہوجائیں گے۔
بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے اس انداز میں متحرک ہونے کے نتیجے میں مولانا فضل الرحمان خود کو یقیناً ہلکا پھلکا محسوس کر
رہے ہوں گے کیونکہ اب تک مشرف دور اور اس کے اقدامات کو جائز، قانونی اور حلال قرار دینے کی ذمہ داریوں کا بیشتر بوجھ مولانا فضل
الرحمان نے بلاواسطہ طور پر اٹھا رکھا تھا۔
![]() |
|
لیکن اب قومی مصالحتی آرڈیننس، بلدیاتی اداروں کی ممکنہ تحلیل اور تیسری مرتبہ وزیرِ اعظم بننے پر پابندی کے ممکنہ خاتمے کی ترغیباتی
گاجروں کے ہوتے ہوئے ایک مرتبہ پھر بینظیر اور نواز شریف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نیت پر اعتبار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
![]() |
|
اس تناظر میں دونوں رہنماؤں کی جانب سے آزاد عدلیہ کے بغیر مشرف ڈھانچے کو جوں کا توں قبول کرلینا کوئی بہت بڑی سیاسی یا اخلاقی قیمت نہیں ہے بلکہ آزاد عدلیہ کے خوف کے بغیر مشرف بینظیر اور شریف جمہوری دکھاوے کے لیے ایک آئیڈیل مثلث ہے۔
لیکن جو لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ شخصیات کے بجائے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت محض کتابی بات ہے تو ایسے لوگوں کو جلد یا بدیر ہٹلر کے جرمنی میں لکھی گئی اس نظم کا کسی نہ کسی شکل میں ضرور سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پہلے پہل وہ کمیونسٹوں کو پکڑنے آئے
میں چپ رھا
میں کمیونسٹ نہیں تھا
پھر وہ یہودیوں کو پکڑنے آئے
میں چپ رھا
میں یہودی نہیں تھا
پھر ایک روز وہ مجھے پکڑنے آگئے
میرے لیے کوئی بولنے والا نہیں تھا