http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 08 December, 2007, 10:57 GMT 15:57 PST

دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان

وزیرستان: جرگہ تنازعےکا شکار

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکومت اور محسود امن کمیٹی کے درمیان ہونے والا جرگہ حکومت کی جانب سے بیت اللہ گروپ کے چھ افراد کی رہائی کے انکار کے بعد تنازعے کا شکار ہوگیا ہے۔

حکومت اور بیت اللہ محسود گروپ کے مقامی طالبان کے درمیان ایک بار پھر حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ محسود قبائل کا جرگہ اب پیر کو ہوگا۔

جرگے کے ایک رکن اقبال محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی وزیرستان سے اغواء کیے جانے والے سکیورٹی فورسز کے تقریباً تین سو اہلکاروں کی رہائی کے دوران حکومت نے محسود امن کمیٹی سے وعدہ کیا تھا کہ اہلکاروں کی رہائی کے بدلے مقامی طالبان سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو رہا کیا جائے گا۔

جرگے کے مطابق اس وقت حکومت نے پچیس افراد کو موقع ہی پر رہا کر دیا تھا جبکہ تین افراد کو اس سے قبل رہا کیا گیا اور چھ افراد قید میں رہ گئے تھے۔

جرگے کے مطابق ان افراد کی رہائی کے سلسلے میں محسود امن کمیٹی نے اکرام الدین اور امیر محمد کی قیادت میں گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی اور کور کمانڈر مسعود اسلم سےملاقات کی لیکن انہوں نے ان افراد کی رہائی سے صاف انکار کردیا اور جرگے کو بتایا کہ مقامی طالبان سے امن معاہدہ نہیں ہے۔

محسود امن جرگے نے بتایا کہ مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان صرف زبانی نہیں بلکہ تحریری معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق وہ علاقے میں ایک دوسرے پر حملے نہیں کریں گے اور علاقے میں پائیدار امن کے لیے کوشش کریں گے۔

جرگے نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے جرگے کے ساتھ کیا وعدہ پورا نہیں کیا تو جنوبی وزیرستان میں دوبارہ حالات خراب کرنے کے ذمہ دار طالبان نہیں بلکہ حکومت خود ہے۔ پیر کو ہونے والے جرگے میں یہ فیصلہ بھی کیا جائےگا کہ محسود قبائل حکومت سے ہر قسم کے تعاون کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔