Saturday, 08 December, 2007, 02:04 GMT 07:04 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مٹہ (سوات)
سکیورٹی فورسز سوات کی دو اہم تحصیلوں مٹہ اورخوازہ خیلہ کو طالبان کے قبضے سے چھڑوانے میں تو کامیاب ہوگئی ہیں لیکن ان علاقوں میں رہنے والے لوگ بدستور غیر یقینی صورتحال اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
گزشتہ روز سکیورٹی فورسز کے ہمراہ جب مٹہ بازار کے اندر داخل ہوا تو تقریباً ایک ماہ قبل جس تھانے پر عسکریت پسندوں کا قبضہ تھا وہاں صورتحال مختلف نظر آئی، ہر طرف فوج اور پولیس کے اہلکار کھڑے تھے۔
تھانے کے باہر عسکریت پسندوں نے ’طالبان سٹیشن‘ کا جو بورڈ نصب کیا تھا وہ سکیورٹی اہلکاروں نے توڑ دیا ہے۔ تاہم تھانے کے اندرنی گیٹ پر جلی حروف میں ’طالبان مرکز‘ بدستور لکھا ہوا ہے۔
مٹہ تھانے پر عسکریت پسندوں کے کمانڈر خان خطاب کا قبضہ تھا جس کے بارے میں فوج کا دعویٰ ہے کہ انہیں ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی سکیورٹی فورسز نے دو بار خان خطاب کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔
مٹہ اور خوازہ خیلہ میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کنٹرول سنبھالنے پر مقامی لوگ خوش تو ضرور ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بدستور غیر یقینی کفیت اور خوف وہراس کا شکار بھی ہیں۔
گلے کاٹنے کے ان واقعات سے علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیا تھا اور لوگوں کو اپنی جانیں بچانے کی فکر لاحق ہوئی۔ شدت پسندوں نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی لوگوں سے ہر جائز و ناجائز کام کروائے، ان کے گھروں کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا اور ان سے اسلحہ بھی چھین لیا۔
بعض علاقوں میں عسکریت پسندوں نے علاقے کے باآثر لوگوں خصوصاً ناظمین اور خوانین کو اغواء کیا اور ان کوزبردستی اپنے حمایت پر مجبور کیا۔
مٹہ اور خوازہ خیلہ میں زیادہ تر لوگوں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ عسکریت پسند بغیر کسی مزاحمت کے علاقے چھوڑ کر روپوش ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز تو اب ہر جگہ موجود ہیں لہذا اب ان پر حملے کرنا پہلے کے نسبت زیادہ آسان ہے۔
اگرچہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے شورش زدہ علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے ساتھ ہی لوگ تیزی سے اپنے اپنے علاقوں کی طرف واپس آنا تو شروع ہو رہے ہیں لیکن نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی ایک بڑی تعداد اس خوف کی وجہ سے اپنے گھروں کو واپس نہیں آ رہی کہ کہیں لڑائی دوبارہ شروع نہ ہوجائے۔
ان خدشات میں مزید اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے امام ڈھیری گاؤں میں مولانا فضل اللہ اور ان کے ترجمان سراج الدین کے گھروں میں دھماکوں سے اردگرد واقع پندرہ کے قریب دیگر گھروں کو نقصان پہنچایا۔
اس واقعہ کے بعد امام ڈھیری گاؤں میں ایک بار پھر سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز ایک طرف
تو ان کو گاؤں آنے کی دعوت دے رہی ہیں تو دوسری طرف ان کے گھروں کو دھماکوں سے اڑایا جا رہا ہے۔
![]() |
|
| لوگوں کی بڑی تعداد اس خوف سے واپس نہیں آ رہی کہ کہیں لڑائی دوبارہ نہ شروع ہوجائے |
مبصرین کے مطابق بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ شدت پسند سکیورٹی فورسز پر دوبارہ حملے کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی سوات میں عسکریت پسند کوئی تین کے قریب خودکش حملے اور لا تعداد دھماکے کر چکے ہیں، جن میں زیادہ تر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
سوات میں حالیہ کشیدگی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہوا ہے اور اب جبکہ زیادہ تر علاقے حکومتی فورسز کے کنٹرول میں ہیں تب بھی وہ عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں۔