http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 08 December, 2007, 03:28 GMT 08:28 PST

ایمرجنسی اٹھانے کا مشورہ

اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک محمد قیوم کے مطابق انہوں نے صدر پرویز مشرف کو مشورہ دیا ہے کہ ملک سے ایمرجنسی سولہ کی بجائے پندرہ دسمبر کو اٹھا لی جائے۔

بی بی سی اردو سروس کے عمر آفریدی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ تو صدر مشرف نے کرنا ہے لیکن سولہ دسمبر کو چونکہ اتوار کی وجہ سے ہفتہ وار تعطیل ہے اس لیے اس سے پہلے ایمرجنسی اٹھانا مناسب ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ورکنگ ڈے پر ایمرجنسی اٹھانے کا مشورہ اس لیے دیا ہے کیونکہ (ایمرجنسی ختم ہونے پر) کچھ قانونی تقاضے پورے کرنے ہونگے اور پی سی او کے دوران مقرر کیے گئے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججوں کو فوری طور پر آئین کے تحت حلف بھی اٹھانا ہوگا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج آئین کی بحالی کے باوجود بحال نہیں ہونگے۔ ’وہ آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں برطرف ہوچکے ہیں۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ پندرہ دسمبر ہی کیوں اس سے پہلے ایمرجنسی کیوں نہیں اٹھا لی جاتی تو ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کے حوالے سے کچھ ایسے اقدامات کرنا ابھی باقی ہیں جو صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ’آئین کی فوری بحالی کا فائدہ دہشت گردوں کو ہی ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ لاء اینڈ آرڈر کی وجہ سے کیا گیا تھا نا کہ انتخابات کے پیش نظر۔