Thursday, 06 December, 2007, 09:57 GMT 14:57 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مینگورہ
سوات میں سکیورٹی فورسز نے پہلی دفعہ عسکریت پسندوں کے رہنما مولانا فضل اللہ کے مرکز امام ڈھیری میں داخل ہوکر وہاں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
جمعرات کی صبح فوج اور فرنٹیر کور کے جوان بڑی تعداد میں مولانا فضل اللہ کے ہیڈ کوارٹر امام ڈھیری میں داخل ہوئے۔ اس موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور پورے علاقے کو چاروں طرف سے سیل کیا گیا تھا جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹر بھی فضا میں گشت کرتے ہوئے دیکھائی دیے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق امام ڈھیری میں داخل ہونے سے پہلے فوج کی انجینیرنگ ٹیم نے پہلے وہاں سے بارودی سرنگیں ہٹائیں اور علاقہ صاف ہونے کے بعد فوجی دستے مرکز میں داخل ہوئے۔
سوات میں چوبیس گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ ہے جو جمعہ کی صبح تک جاری رہے گا جس کی وجہ سے ان امیدواروں کو مشکلات کا سامنا رہا جنہیں انتخابات کے لیے نامزدگی کے آج آخری دن اپنے کاغذات جمع کرانے تھے۔
مقامی صحافی شیرین زادہ کے مطابق سکیورٹی فورسز کے امام ڈھیری مرکز میں داخل ہونے سے پہلے کانجو پل پر گن شپ ہیلی کاپٹرز نیچی پروازایں کررہے تھے جبکہ پل پر چار پانچ ایمبولینسں گاڑیاں بھی کھڑی تھیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے کرفیو کا نفاذ سکیورٹی فورسز کی امام ڈھیری مرکز کی طرف پیش قدمی کے باعث کیا گیا ہے۔ تاہم سوات میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کرفیو کا اعلان مسجدوں سے نہیں کرایا گیا۔ سوات میڈیا سینٹر کے ترجمان میجر امجد اقبال کا کہنا ہے کہ کرفیو کا اعلان ٹیلی ویژن چینلز پر کیا گیا تھا۔
گزشتہ دو ہفتوں سے سوات میں کرفیو نافذ ہے تاہم شہری علاقوں میں صبح چھ سے لیکر شام پانچ بجے تک نرمی کی جاتی تھی جبکہ حساس علاقوں میں کرفیو میں پانچ گھنٹے کا وقفہ دیا جاتا رہا ہے۔
سوات میں قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی سات نشستوں کےلیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آخری دن تھا۔ تاہم مینگورہ میں کرفیو کے باعث امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں سخت مشکلات کا سامنا رہا۔