http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 02 December, 2007, 01:48 GMT 06:48 PST

امداد علی سومرو
لاہور

گھرخالی کرنے کے نوٹس پرجج کانوٹس

پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے لاہور کے ایک جج نے سرکاری رہائش گاہ خالی کروانے کے لیے ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے جاری نوٹیسز پر ازخود کارروائی کرتے ہوئے انہیں توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

رجسٹرار کو جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر جواب دائر کریں کہ انہوں نے کس کے کہنے پر جج کو گھر خالی کرنے کا نوٹس بھیجا ہے۔

پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے عدالت عالیہ کے دو ججوں جسٹس ایم اے شاہد اور جسٹس اعجاز احمد چوھدری کو ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے نوٹیسز جاری کیے تھے کہ وہ دو دسمبر تک سرکاری گھر خالی کر دیں۔

جسٹس ایم اے شاہد نے گھر خالی کرنے کا نوٹس ملنے کے بعد از خود کارروائی کرتے ہوئے ہفتہ کے روز اپنے گھر کے اندر عدالت لگا دی اور رجسٹرار کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پی سی او اور ایمرجنسی کو سپریم کورٹ کالعدم قرار دی چکی ہے لہذا وہ اور پی سی او تحت حلف نہ اٹھانے والے ان کے دیگر ساتھی آج بھی اعلی عدلیہ کے آئینی جج ہیں اور انہیں غیر آئینی طریقے سے زبردستی فرائض ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے عدالت عالیہ لاہور کے دو جج جسٹس ایم اے شاہد اور جسٹس اعجاز احمد چوھدری جی او آر لاہور میں واقع سرکاری گھروں میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں جنہیں گھر خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے سنیئر ترین جج جسٹس خواجہ محمد شریف کے مطابق جن ججوں کو گھر خالی کرنے کے لیے نوٹسز دیے گئے ہیں ان کہ پاس ذاتی گھر ہی نہیں ہیں اور نہ ان کے پاس اتنی رقم ہے کہ وہ کرائے کا گھر لے کر اہل خانہ کہ ہمراہ کہیں اور منتقل ہو جائیں۔

انہوں نے یہ بات ستائیس نومبر کو ان سے ملاقات کے لیے آئے ہوئے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی تھی۔