Saturday, 01 December, 2007, 09:51 GMT 14:51 PST
سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو عام انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے سوال پر پیر کی شام اسلام آباد میں بات چیت کریں گے۔
مسلم لیگ نواز کے سینیر رہنما راجہ ظفر الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات مسٹر نواز شریف کی پہل پر ہو رہی ہے جس میں بینظیر بھٹو کو انتخابات کے بائیکاٹ پر مائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
’دونوں رہنماؤں کا ٹیلیفون پر رابطہ تھا لیکن نواز شریف نے کہا کہ میں بینظیر بھٹو سے ملنے اسلام آباد جاؤں گا‘۔
انتخابات کے تعلق سے پیپلز پارٹی کی حکمت عملی ابھی واضح نہیں ہے۔
جمعہ کوپیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے حکومت پر مجوزہ عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی بائیکاٹ کا آپشن کھلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر تمام جماعتیں مستقبل کے لائحۂ عمل پر متفق ہوں تو انتخابات کا بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے۔
’انتخابات کا بائیکاٹ تو کرلیں لیکن آگے کیا کرنا ہے، مقصد کیا ہوگا، حکمت عملی کیا ہوگی اس بارے میں اتفاق رائے کرنا ہوگا‘۔
ادھر راجہ ظفر الحق نے یہ عندیہ بھی دیا کہ خود نواز لیگ میں بھی الیکشن کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظر ثانی ہورہی ہے۔
’پارٹی میں ایک حلقے کی رائے یہ بھی تھی کہ انتخابات کا بائکاٹ نہ کیا جائے‘۔
انہوں نے کہا کہ نواز لیگ کے پارلیمانی بورڈ کی کل میٹنگ ہوگی جس میں انتخابات کے لیے ٹکٹ تقسیم کیے جائیں گے۔
’ابھی ہم نے اپنے پارٹی امیدواروں سے نام واپس نہ لینے کے لیے کہا ہے۔ اب صرف عدلیہ کی بحالی کا مسئلہ باقی ہے۔ اگر یہ شرط مان لی جاتی ہے تو ہم انتخابات میں حصہ لیں گے‘۔
نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ سولہ دسمبر ہے۔ ووٹ آٹھ جنوری کو ڈالے جائیں گے۔
راجہ ظفر الحق نےکہا کہ کسی ایک جماعت کے انتخابات میں حصہ نہ لینے سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
’ہم بھی اس سلسلے میں حتمی فیصلہ بینطیر بھٹو اور جمیعت علیماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات اور اے پی ڈی ایم میں صلاح مشورے کے بعد کریں گے۔‘
مولانا فضل الرحمن بائیکاٹ کے خلاف ہیں۔ وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ انتخابات میں حصہ نہ لینا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ لیکن جماعت اسلامی اور عمران خان کی تحریک انصاف انتخابات سے الگ رہنے کے حق میں ہیں۔