Thursday, 29 November, 2007, 17:01 GMT 22:01 PST
سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
پاکستان کے سویلین صدر کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل مشرف پہلی مرتبہ سرکاری ٹی وی پر نظر آئے، تو بے ساختہ ہی خیال آیا کہ’ بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں، گھر کی بربادی کے آثار نظر آتے ہیں ۔۔۔‘
کچھ انداز بھی مختلف تھا، وہ پہلے جیسی گھن گرج نہ تھی، اور یا تو کہنے کو کچھ زیادہ تھا نہیں، یا پہلی پہلی تقریر میں زیادہ کچھ کہنا نہیں چاہا۔
بہرحال، میں نےان کی تقریر کو غور سے سنا، جو اہم باتیں انہوں نے کہیں، ان کوسنتے ہی جو تاثرات دل میں آئے، وہ حاضر خدمت ہیں۔
صدر مشرف نے اپنی تقریر میں فرمایا:
’جنرل کیانی کی کامیابی کی دعا کرتا ہوں‘
میں نے سوچا: اپنے پیروں پر خود کلہاڑی کیوں مار رہے ہیں؟
’میں جو کچھ بھی ہوں پاکستان کے عوام اور فوج کی وجہ سے ہوں‘
پاکستانی فوج نے آپ کےساتھ کیا سلوک روا رکھا یہ تو معلوم نہیں، لیکن پاکستانی عوام پر یہ سراسر الزام ہے
’ہم نےمیڈیا کو آزاد کیا‘
پیمرا میں ترامیم ختم کردیں اور ہمیں بتایا بھی نہیں؟
اور ہاں، ’جیو‘ شروع ہوگیا کیا؟
یا ایک پرانی ہندی فلم کا یہ ڈائلاگ: (میڈیا کی آزادی) بچوں کے کھیلنےکی چیز نہیں، ہاتھ میں لگ جائے تو خون نکل آتا ہے۔
’دہشت گردوں کے خلاف جنگ چند دنوں میں جیت لی جائے گی‘
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
’پاکستان میں حالات واپس پٹری پر آگئے ہیں‘
لیکن یہ پٹری جا کہاں رہی ہے؟
’ملک سے ایمرجسنی اٹھا لی جائےگی‘
حلف لیتے ہی سارے مسائل حل ہوگیے؟
اور ہاں، کیا جسٹس افتخار محمد چودہری صاحب کو خبر کرا دی ہے کہ وہ
اپنا کالا کوٹ ڈرائی کلین کرالیں
’بینظر بھٹو اور پی ایم ایل نواز کو لیول پلئینگ فیلڈ دیدیا گیا ہے‘
ق لیگ کوبھی اسی ’لیول‘ میدان میں اتار دیتے تو اچھار رہتا، یا ان کے لیے (انتخابی) فیلڈ الگ ہوگا؟
’ملک میں مکمل جمہوریت بحال ہوگئی ہے‘
اگر آپ کو یاد ہو تو نواز شریف کی حکومت کا تختہ پلٹنے کے فوراً بعد آپنے کہا تھا کہ ’گراس روٹس‘ جمہوریت لاتے ہی آپ چلے جائیں گے۔
اگر جمہوریت واقعی بحال ہو گئی ہے، تو اب آپ کی کیا ضرورت ہے؟