Tuesday, 27 November, 2007, 09:39 GMT 14:39 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں اس کے انتخابی امیدواروں کو اٹھا کر لےگئی ہیں تاکہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکیں۔
پیپلز پاٹی کے نائب چیئرمین مخدوم امین فہیم نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ غلام قادر مسوری بگٹی کے بیٹے جان محمد بگٹی اور سرفراز بگٹی ڈیرہ بگٹی ضلع سے ان کی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنا چاہتے ہیں لیکن ان دونوں کو انٹیلیجنس ایجنسی کے اہلکاروں نے گرفتار کر لیا ہے۔
امین فہیم کے مطابق سرفراز بگٹی کو ایک ہفتہ قبل اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ انتخابات میں حصہ لینے اپنے علاقے پہنچے جبکہ ان کے بھائی کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت پکڑا گیا۔
انہوں نے اپنی جماعت کے امیدواروں کے مبینہ اغوا کی شدید مذمت کی اور کہا کہ انتخابی عمل شروع ہوتے ہی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے دھاندلی کا آغاز کر دیا ہے۔
ادھر الیکشن کمیشن نے بلوچستان سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے انٹیلیجنس ایجنسی کے ہاتھوں مبینہ طور پر اغوا کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سکریٹری جنرل راجہ پرویز اشرف نے چیف الیکشن کمشنر کو تحریری شکایت کی ہے کہ ڈیرہ بگٹی سے ان کی جماعت کے قومی اسمبلی کے امیدوار احمد جان کلپر اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار جان محمد بگٹی کو نامزدگی فارم جمع کراتے وقت الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر سے اغوا کرلیا گیا۔
پیپلز پارٹی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 267 سے ان کے امیدوار نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے چند روز پہلے سے صوبائی حکومت کو درخواست دی تھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے لہٰذا انہیں سکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ وہ نامزدگی فارم روبرو جمع کرا سکیں۔
غلام قادر مسوری بگٹی |
راجہ پرویز اشرف نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا تھا کہ نامزدگی فارم جمع کرانے کے لیے جانے والے ان کے گرفتار امیدواروں کی رہائی کا حکم دیں اور صوبائی الیکشن کمیشن کو ہدایت کریں کہ گرفتار امیدواروں کے نامزدگی فارم قبول کریں۔
اس بارے میں جب سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تحریری شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے کمیشن نے متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون کے مطابق ضروری اقدامات کریں۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں اگست سن دو ہزار چھ میں نواب اکبر بگٹی کو قتل کیے جانے کے بعد سے میڈیا کے داخلے پر پابندی ہے اور پورا ضلع ’نو گو ایریا‘ بنا ہوا ہے۔
غلام قادر مسوری بگٹی نواب اکبر بگٹی کے مخالف تھے اور حکومتی سرپرستی میں اپنے علاقے بیکڑ میں واپس آئے تھے لیکن ان کا پیپلز پارٹی سے بھی پرانا تعلق ہے۔