http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 26 November, 2007, 21:31 GMT 02:31 PST

دلاورخان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان

ڈی آئی خان میں فرقہ وارانہ قتل

صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے اہل تشیع کے ایک سرگرم کارکُن کو گولی مارکر ہلاک کیا دیا۔

ایک دوسرے واقع میں بارودی مواد سے دھماکہ کرکے ایک نیٹ کیفے کو تباہ کر دیا گیا۔پولیس نے ملزموں کی تلاش شروع کر دی ہے لیکن تا حال کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان ریسکیو پولیس کے ایک سنئیر اہلکار محمد سلمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پیرکو رات دس بجے اہلِ تشیع کے ایک سرگرم کارکُن عابد حُسین اپنی ذاتی موٹر کار گاڑی میں ڈیرہ شہر سے اپنے گھر بلوچ ہوم جارہے تھے کہ وینسم کالج سے آگے ملتان روڈ پر دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی۔

فائرنگ کے نتیجے میں عابد حسین موقع ہی پر ہلاک ہوگئے اور نامعلوم موٹر سائیکل سوار فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ جگہ جگہ چھاپے مارے جارہے ہیں لیکن ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

پولیس کے سنئیر اہلکار نے کہا کہ اس واقع سے ایک گھنٹہ پہلے شہر کے مغربی حصہ میں نامعلوم افراد نے ایک نیٹ کیفے کی چاردیواری میں بارودی مواد نصب کیا تھا جو ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔جس سے نیٹ کیفے مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

پولیس کے مطابق دھماکے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔البتہ دھماکہ اتنا شدید تھا جس کی آواز دور دور سُنی گئی۔

یاد رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ ایک سال سے حالات ویسے بھی انتہائی کشیدہ ہیں لیکن کچہ عرصہ سے سُنی شیعہ فسادت نے ڈیرہ کے مخدوش حالات کو مزید بگڑ دیا ہے۔اس سال مارچ میں سُنی شیعہ فسادت میں کئی لوگ مارے گئے تھے اور حکومت نے دو ہفتے تک کرفیو نافذ کیے رکھا تھا۔