http://bbc.com.im/urdu/

راجہ ذوالفقارعلی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

ڈیل کا موڈ نہیں

سابق وزیراعظم نواز شریف نے اتوار کو اپنی آمد کے بعد مختلف مقامات پر مسلم لیگی کارکنوں سے خطاب کے دوران سب سے زیادہ اس بات پر زور دیا کہ وہ کسی ڈِیل کے نتیجے میں پاکستان نہیں آئے ہیں۔

ڈیل وِیل کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا وقت آگیا: نواز شریف
نواز شریف کے استقبال کی تیاریاں
نواز شریف ایک بار پھر جلاوطن، جدہ منتقل
جلا وطنی کے معاہدے کا عکس

اس کے علاوہ بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں سابق وزیرِ اعظم نے کھلے لفظوں میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ان کی پاکستان واپسی جنرل پرویز مشرف پر سعودی عرب کے دباؤ کے باعث ہوئی ہے نہ کہ کسی اور وجہ سے۔

انہوں نے وطن واپس آنے کے بعد یہ بات بھی کافی حد تک واضح کر دی ہے کہ ان کے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بینظر بھٹو کے درمیان اختلاف بدستور موجود ہے۔

گزشتہ دنوں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ٹیلیفون پر کئی بار طویل بات چیت ہوئی ہے لیکن بظاہر دونوں رہنما تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بحالی پر متفق نہیں ہو سکے۔

نواز شریف کا یہ کہنا کہ ’ہم تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بات کر تے ہیں لیکن وہ اس کی بجائے عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے ہیں‘ کافی واضح اشارہ ہے کہ کم از کم عدلیہ کے معاملے پر اپوزیشن کے ان دونوں رہنماؤں کی راہیں جدا جدا ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس معاملے پر بہت کلیئر ہونا چاہیے‘۔

سابق وزیرِ اعظم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ تین نومبر سے پہلے والی صورتِ حال بحال کی جائے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انہیں کسی طور بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والی موجودہ عدلیہ قبول نہیں، اور جو کچھ ہوا اسے ’رول بیک ہونا چاہیے۔‘

صدر پرویز مشرف نے حالیہ دنوں میں جس بات کو سب سے مؤثر انداز میں کہا ہے وہ یہ ہے کہ تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ ماضی کا قصہ بن چکی ہے اور پرانے ججوں کی بحالی کا کوئی امکان نہیں۔ لہذا نواز شریف کا یہ بیان جنرل پرویز مشرف کے لیے پریشانی کا باعث ہی بنے گا کیونکہ وہ اس معاملے کو اپنے طور پر ختم کر چکے ہیں۔

بینظیر بھٹو نے تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کے حق میں کچھ بیانات ضرور دیئے ہیں لیکن انہوں نے جسٹس افتخار چودھری اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ان کے دیگر برادر ججوں کی بحالی کا مطالبہ اتنی شدت سے نہیں کیا جتنا نواز شریف کر رہے ہیں۔

بینظیر بھٹو اس معاملے کو زیادہ اجاگر کرکے بظاہر جنرل مشرف کے لیے نئی مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتیں۔ لیکن مسلم لیگ نون کے سربراہ کا کہنا یہ ہے کہ پرانی عدلیہ کی بحالی کے مطالبے کا تعلق پاکستان کی سالمیت اور بقا سے ہے۔

دونوں رہنماؤں کی سوچ کا یہ فرق اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ نواز شریف اپنے موقف کو اے پی ڈی ایم کے موقف سے الگ کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ نواز شریف نے اپنے آبائی حلقےگوالمنڈی پہنچ کر میں جو خطاب کیا اس میں انہوں نے کہا کہ ’میرے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں کہ میں حکومت سے ڈیلِ کرتا پھروں۔‘

ظاہر ہے کہ نواز شریف کے اس جملے کی براہِ راست مخاطب بینظیر بھٹو ہیں جن پر کرپشن کے مقدمات ہیں اور انہوں نے حکومت سے مذاکرات اور ان مذاکرات کے نتیجے میں قومی مصالحتی آرڈینینس کے تحت کچھ سہولتیں حاصل کی ہیں۔

ابھی نواز شریف کو وطن واپس ہوئے چند گھنٹے ہی ہوئے ہیں اور انہی چند گھنٹوں کے دوران بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ کم از کم بینظیر بھٹو کے ساتھ کسی طرح کی ڈِیل کے موڈ میں نہیں ہیں۔