Sunday, 25 November, 2007, 17:55 GMT 22:55 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز خان نے کہا ہے کہ عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں کو تیس نومبر تک سرکاری رہائش گاہیں خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ ملک میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔
نگراں وزیر داخلہ نے یہ بات اتوار کو سپورٹس کمپلیکس میں انٹرنیشنل بیڈمنٹن چیمپیئن شپ کی افتتاحی تقریب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کی۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان ججوں کی نظربندی کب ختم ہوگی۔
وزارت داخلہ کے ترجمان نےگزشتہ دنوں یہ دعوی کیا تھا کہ حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں کی آمد و رفت پر کوئی پابندی نہیں لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ راولپنڈی جی ایچ کیو اور حمزہ کیمپ پر خود کش حملوں کے شواہد مل گئے ہیں اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان حملوں میں استعمال ہونے والا مواد اور حکمت عملی اس سے پہلے ہونے والے دھماکوں اور خود کش حملوں سے ملتی جلتی ہے تاہم اس بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ان کا اصرار تھا کہ حتمی بات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کی جا سکے گی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے البتہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنا ہوگی اور میاں نواز شریف سمیت تمام سیاسی قوتوں کو بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلانے اور انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کا کام صاف و شفاف انتخابات کا عمل یقینی بنانا ہے جس کیلیے نگران حکومت کوئی کسر روا نہیں رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ان کی فیورٹ نہیں، ان کے لئے سب برابر ہیں اور ان کا مقصد منصفانہ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔