Saturday, 24 November, 2007, 15:54 GMT 20:54 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
سرحد حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سوات، شانگلہ اور دیگر شورش زدہ علاقوں میں انتخابات الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق آٹھ جنوری کو ہونگے جبکہ ان علاقوں میں جاری کشیدگی کو مقامی جرگوں کے ذریعے سے حل کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سنیچر کو پشاور میں نگران صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات سید امتیاز حسین گیلانی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ سوات اور شانگلہ میں عام انتخابات سے قبل حالات بہتر ہو جائیں گے۔
ان کے مطابق نگران وزیراعلیٰ شمس الملک کی مالاکنڈ ڈویژن کے سطح پر مختلف جرگوں سے بات چیت جاری ہے اور اس سلسلے میں ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جارہا ہے جو علاقے میں امن وامان کے حوالے سے کام کرے گا۔
صوبائی وزیر نے سوات میں جاری آپریشن پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ اپنے لوگوں کے خلاف کارروائیاں کرے لیکن بعض حالات میں کچھ اقدامات مجبوراً لینے پڑتے ہیں۔
دو ہزار سات میں ایک ہزار ہلاک |
دہشت گردی کارروائیوں میں جانی نقصانات کے حوالے سے مختصر اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبہ سرحد میں اب تک سال دو ہزار سات میں ایک ہزار کے قریب افراد عسکریت پسندی کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار، عام شہری اور جنگجو شامل ہیں۔
ان کے مطابق اگر سوات کے مسئلے کو بروقت قابو نہیں پایا گیا تو یہ مسئلہ صوبے اور ملک کے دیگر حصوں تک پھیل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سوات میں ایک ایف ایم ریڈیو قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے سے عوام کو اسلام کی اصل روح سے روشناس کرایا جائے گا۔
پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں نے صوبائی وزیر سے کئی سوالات کیے لیکن وہ زیادہ تر سوالات کے تسلی بخش جوابات نہیں دے سکے۔