http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 24 November, 2007, 19:00 GMT 00:00 PST

ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی: صحافیوں کا احتجاج اور دھرنا

کراچی میں سنیچر کو صحافیوں نے کراچی پریس کلب کے باہر ایمرجنسی کے نفاذ، پیمرا آرڈیننس میں ترامیم اور میڈیا پر مختلف پابندیوں کے خلاف پرامن احتجاجی دھرنا دیا۔

صحافیوں نے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئیں تھیں اور وہ میڈیا پر پابندیوں کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے۔

صحافیوں پر پولیس تشدد، گرفتاریاں
پاکستان میں ایمرجنسی: خصوصی ضمیمہ
انتخابات آٹھ جنوری کو ہوں گے
پانچ ہزار سے زائد کی رہائی شروع:وزارتِ داخلہ
ایمرجنسی کی تصویری کوریج

کے یو جے یعنی کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر شمیم الرحمٰن نے کہا کہ صحافیوں کی پرامن جد و جہد جاری رہے گی۔ انہوں نے بیس نومبر کو صحافیوں پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کی ایک مرتبہ پھر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے صحافیوں کے خلاف دو مقدمات درج کیے ہیں جنہیں فوری طور پر واپس لیا جائے۔

دوسری جانب سندھ گورنر عشرت العباد نے سنیچر کو گورنر ہاؤس میں ایک اعلٰی سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں ہیں کہ حالیہ دنوں میں صوبے کے مختلف علاقوں میں صحافیوں کے خلاف قائم مقدمات کا جائزہ لیتے ہوئے ان کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے مستقبل میں میڈیا اور حکومت کے درمیان بہتر تعلقات کی امید ظاہر کی۔

واضح رہے کہ پچھلے منگل کو صحافیوں نے کراچی پریس کلب سے ایک جلوس نکالا تھا جسے ایک یادداشت پیش کرنے کے لیے گورنر ہاؤس جانا تھا لیکن صوبے میں دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کی وجہ سے صحافیوں کو پولیس نے راستے میں روک لیا اور جب صحافیوں نے زبردستی جانے کی کوشش کی تو ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں جس سے کئی صحافی زخمی ہوگئے تھے۔ بعد ازاں پولیس نے ایک سو اکیاسی صحافیوں کو حراست میں لے لیا جنہیں بعد میں رات گئے رہا کردیا گیا۔

کراچی کی طرح ملک کے دیگر حصوں میں بھی صحافی ایمرجنسی کے نفاذ، پیمرا آرڈیننس میں ترامیم اور مختلف پابندیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔