Friday, 23 November, 2007, 01:41 GMT 06:41 PST
انتخاب امیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سوات
حکام نے صوبہ سرحد کے شمالی ضلع سوات میں دس گھنٹوں کے لیے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ کرفیو کے اعلانات جمعرات کی رات دیر تک مساجد کے پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے کیے جاتے رہے۔
اعلان کے مطابق کرفیو رات دو بجے سے لے کر جمعہ کی دوپہر بارہ بجے تک کےلیے ہوگا۔ تاہم پہلے پہل حکام کی جانب سے رات دو بجے سے لے کر دن دو بجے تک کے لیے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا۔ لیکن پھر جمعہ کی نماز کے پیشِ نظر کرفیو کے دورانیہ میں دو گھنٹے کی کمی کر دی گئی۔
بی بی سی کے رابطہ کرنے پر سوات میڈیا انفارمیشن سینٹر کے انچارج امجد اقبال نے بتایا ہے کہ کرفیو فوج کی نقل و حرکت اور ’آپریشنل‘ ضروریات کے پیشِ نظر لگایا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ عام شہریوں کو فوج کی نقل و حرکت سے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے‘۔
جمعرات کے روز مینگورہ کے قریب کانجو بازار میں فوج کےایک قافلے کی نقل و حرکت کے دوران فائرنگ سے ایک عام شہری ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ سرکاری ترجمان امجد اقبال نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ فوج کی جانب سے فائرنگ چند افراد پر شک پڑنے کے سبب کی گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد فوج کے خلاف ردِ عمل کے طور پر علاقے کے عوام نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جو کہ مقامی ناظم کی مداخلت پر ختم کیا گیا۔
کرفیو کے نفاذ سے جہاں مینگورہ اور اس کے اردگرد کے علاقوں کے سکولوں کے طلباء، سرکاری و غیر سرکاری محکموں، بنکوں اور کاروباری طبقہ متاثر ہوگا وہیں فوج کی آپریشنل ضروریات کے پیشِ نظر کیے گئے اس اقدام کی وجہ سے کبل تحصیل سے مینگورہ اور مینگورہ سے دوسرے شہروں کو نقل مکانی کرنے والے افراد کی پریشانی میں اضافہ کا قوی امکان ہے ۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ کرفیو کا نفاذ حکومت کے لیے صرف اُن ہی علاقوں میں ممکن ہوگا جہاں اس کی عملداری ہے جن میں مینگورہ، سیدو شریف، کانجو، اوڈیگرام اور بریکوٹ چیدہ چیدہ علاقے ہیں۔ جبکہ بیشتر علاقوں میں خصوصاٌ کبل تحصیل کے اُن علاقوں میں جہاں عملاً حکومت مخالف مسلح دھڑے کی عملداری ہے وہاں کرفیو کا نفاذ حقیقت کا روپ نہیں دھار سکےگا۔
اس حوالے سے جب سرکاری ترجمان سے پوچھا تو اُن کا جواب تھا کہ ’کم از کم عام شہری اُن علاقوں میں بھی گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے‘۔