http://bbc.com.im/urdu/

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

فوج قومی نہیں قابض ہے: وکلاء

پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور ججوں کی برطرفی کے خلاف جمعرات کو پشاور میں سینکڑوں وکلاء کا ایک کنونشن منعقد ہوا جس میں مقررین نے پاکستان فوج کو قومی نہیں بلکہ قابض فوج قرار دیکر اسکے خلاف جدوجہد کو مزید تیز کرنے پر زور دیا ہے۔

وکلاء نے اتوار تک چودھری اعتزاز احسن اور دیگر رہنماؤں کو رہا نہ کرنے کی صورت میں پیر سے صوبہ سرحد میں ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان بھی کیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے احاطے میں منعقد ہونے والا یہ کنونشن صوبہ سرحد میں اٹھارہ روز سے جاری وکلاء کی احتجاجی تحریک کا سب سے بڑا اجتماع تھا جس میں تقریباً چھ سو وکلاء کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صوبائی قائدین نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر پشاور ہائی کورٹ کی عمارت کے اردگرد پہلے کی نسبت پولیس کی ایک بڑی تعداد چوکس کھڑی تھی۔

کنونشن کے مہمان خصوصی عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہ جہان خان یوسفزئی تھے۔

اپنے خطاب کے دوران شاہ جہاں خان نے کہا کہ آئین میں ایمر جنسی کے نفاذ کی شق موجود ہے مگر بقول انکے جنرل پرویز مشرف آئین معطل کرکے عبوری دستور کے تحت ایمر جنسی نافذ کرکے ماورائے آئین اقدام کے مرتکب ہوئے ہیں جو بقول انکے غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سنیئر وکیل بیرسٹر مسعود کوثر نے کہا کہ ’پاکستان کی فوج اب قومی نہیں بلکہ ایک قابض فوج بن چکی ہے لہذا اسکے خلاف جہاد کرنا اب ہر پاکستانی پر لازم ہوگیا ہے۔‘

ہائی کورٹ کی عمارت کو مختلف قسم کے بینرز سے سجایا گیا تھا جن پر ’عدلیہ کو بحال کرو، ایمرجنسی نامنظور، فوج بیرکوں میں جبکہ انصاف دہلیز پر‘ جیسے نعرے درج کیے گئے تھے جبکہ وکلاء بہت عرصے بعد پہلی مرتبہ بہت پر جوش نظر آئے اور وہ نعروں کا زبردست جواب دیتے رہے۔

کنونشن میں عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کرنے پر انہیں کئی بار خراج تحسین پیش کیا گیا البتہ انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ اب بھی جنرل مشرف کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پر تول رہی ہیں۔ وکلاء نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صرف ’عدلیہ کی بحالی‘ کے ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوکر جدوجہد کا آغاز کردیں۔