Wednesday, 21 November, 2007, 12:22 GMT 17:22 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں شفاف انتخابات کا انعقاد کیسے ممکن ہوسکتا ہے جبکہ صحافی گرفتار کیے جا رہے ہوں اور اعلیٰ عدالتوں کے جج قید میں ہوں۔
بینظیر نے یہ بات بدھ کو برطانوی ہائی کمشنر رابرٹ برکلے اور ڈپٹی ہائی کمشنر ہمیش ڈینئل سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔
بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ انہوں نے وفد کو بتایا کہ انہیں انتخابات کے شفاف ہونے کی امید نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ عالمی قوتوں نے آمریت کے بجائے جمہوری قوتوں کا ساتھ دینا شروع کیا ہے۔
بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ انہیں امید تھی کہ جنرل پرویز مشرف سعودی عرب میں مسئلہ کا حل تلاش کریں گے اور نواز شریف کو واپس لائیں گے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
بینظیر بھٹو کے مطابق جنرل مشرف نے ملک میں جمہوریت کے بجائے آمریت مسلط کر دی ہے اور اب انہیں مشرف پر اعتماد نہیں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ملک عدم استحکام کا شکار ہے، جنرل مشرف کو وردی چھوڑ دینی چاہیے اور اب ان سے مذاکرات نہیں ہوں گے‘۔
اس سے قبل گزشتہ شب پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ ان کی جماعت نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا جنوری کے انتخابات میں حصہ لیا جائے گا یا نہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ حکومت نے انتخابات کو’چوری‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور قومی اسمبلی کے 108 حلقوں میں ’اس بات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ سرکار کے حمایتی امیدواروں کے لیے پچیس ہزار جعلی ووٹ بھگتائے جائیں گے۔ ہم اس منصوبے کو الیکشن کمیشن کے سامنے بھی رکھیں گے‘۔