http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 20 November, 2007, 09:24 GMT 14:24 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

مرکزی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس

پاکستان پیپلز پارٹی آج عام انتخابات اور مستقل کے لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

کراچی میں بلاول ہاؤس میں منگل کی شام کو جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہورہا ہے، جس کی صدارت جماعت کی چیئرپرسن بینطیر بھٹو کر رہی ہیں جبکہ تمام سینئر رہنما اس میں شریک ہوں گے۔

اس اجلاس میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی آے آر ڈی کی جانب سے اعلان کردہ آل پارٹیز کانفرنس کے بارے میں بھی فیصلہ متوقع ہے۔

اس سے قبل بینظیر بھٹو نے گزشتہ شب ٹیلیفون پر مسلم لیگ نواز سے رابطہ کیا اور کل جماعتی کانفرنس اور انتخابات کے بارے میں بات چیت کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اس ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پر غور کیا جائیگا۔

ان کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس کب اور کہاں منعقد کی جائے گی اس کے بارے میں ابھی طے ہونا ہے جب اس کا فیصلہ ہوجائیگا تو تمام سیاسی جماعتوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی جائےگی۔

اس سے قبل بینظیر بھٹو نے گزشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بات چیت کررہی ہیں کیونکہ وہ یہ معلوم کرنا چاہتی ہیں کہ کسی ایک ایجنڈے پر کوئی اتفاقِ رائے ہوسکتا ہے یا نہیں۔ وہ نہیں چاہتیں کہ جلد بازی میں کوئی اعلان کردیا جائے اور بعد میں عوام کو مایوسی ہو۔

گزشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو نے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے کہا تھا کہ وہ جنرل پرویز مشرف سے بات چیت کے بعد اب اس عمل کو دہرانے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔

بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ ’ہم جمہوریت کے روڈ میپ پر یقین رکھتے ہیں لیکن ہمیں یہ یقین نہیں کہ جنرل مشرف یہ روڈ میپ دے سکتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اب کیا وجہ ہے کہ مذاکرات کیے جائیں ’ہم نے مذاکرات کیے کیونکہ ہم عدم استحکام نہیں چاہتے تھے۔‘