Tuesday, 20 November, 2007, 23:06 GMT 04:06 PST
ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں منگل کی دوپہر چینلز کی بندش اور پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے ایک سو اکیاسی صحافیوں کو رات گئے رہا کر دیا گیا۔
رہائی پانے والوں میں خواتین بھی شامل تھیں۔ صحافیوں نے پریس پر حکومتی پابندیوں کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
منگل کو کراچی میں صحافیوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ کراچی پریس کلب سے جلوس کی صورت میں ایک یادداشت پیش کرنے گورنر ہاؤس کی جانب جا رہے تھے۔ صحافیوں نے اپنے ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئیں تھیں اور میڈیا پر سرکاری پابندیوں کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔
پولیس نے پریس کلب سے چند گز کے فاصلے پر صحافیوں کو آ لیا اور ان پر لاٹھی چارج کردیا۔ پولیس نے چند صحافیوں کو گرفتار بھی کرلیا جبکہ باقی صحافی دوبارہ پریس کلب کے احاطہ میں داخل ہوگئے۔ پولیس نے مزید کچھ صحافیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی جس پر صحافیوں نے احتجاجاً رضاکارانہ گرفتاریاں پیش کردیں اور پولیس نے ایک سو اکیاسی صحافیوں کو گرفتار کرلیا جن میں خواتین صحافی بھی شامل تھیں۔
تاہم رات کو تمام صحافیوں کو رہا کرنے کا سرکاری حکم نامہ جاری کیا گیا لیکن پانچ صحافیوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا گیا جن میں اے ایچ خانزادہ، موسیٰ کلیم، راجہ طارق، غلام مصطفٰے اور اصغر عمر شامل ہیں۔ جس پر تمام زیرِ حراست صحافیوں نے رہا ہونے سے انکار کردیا۔ بعدازاں حکومت کو تمام صحافیوں کو ایک ساتھ رہا کرنا پڑا۔
صحافی بدھ کو کراچی پریس کلب میں ایمرجنسی کے نفاذ، پیمرا آرڈیننس میں ترامیم، نیوز چینلز کی سرکاری بندش اور صحافت پر مختلف پابندیوں کے خلاف جلسہ کرنے والے ہیں۔