Monday, 19 November, 2007, 01:00 GMT 06:00 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام مینگورہ، سوات
پاکستان کی وادی سوات میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فوسرز کے مابین جاری کشیدگی کو چار ہفتے ہونے کو ہیں لیکن لڑائی میں کمی کی بجائے بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور لگتا ہے کہ یہ سلسلہ جلد تھمنے والا نہیں۔
سوات میں موجودہ کشیدگی کی ابتداء تین ہفتے قبل اس وقت ہوئی جب چوبیس اکتوبر کو حکومت نے صبح سویرے سوات کے مختلف علاقوں میں اچانک سکیورٹی فورسز کے ڈھائی ہزار اہلکار تعینات کیے۔
سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے دوسرے روز کانجو میں سوات پولیس لائن کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا جسمیں کم سے کم بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں کے علاوہ اٹھارہ سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔
اس دھماکے کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز اور مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامی عسکریت پسندوں کے مابین شدید جھڑپیں شروع ہوئی جو چار ہفتوں سے جاری ہیں۔
تاہم ان جھڑپوں میں شدت ایک ہفتہ قبل اس وقت آئی جب فوج نے سوات میں تعینات تمام سکیورٹی فورسز کی کمانڈ اپنے ہاتھ میں لے لی اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف غیر اعلانیہ طورپر آپریشن کا اغاز کیا۔
جھڑپوں میں شدت کب آئی |
سوات کے مسئلے پر گہری نظر رکھنے والے سنیئر مقامی صحافی غلام فاروق کا کہنا کہ جب تک حکومت عملی طور پر سوات میں شریعت کا نفاذ نہیں کرتی یہ لڑائی بہت جلد تھمنے والی نہیں اور نہ ہی حکومت عسکریت پسندوں کو کچھ دیے بغیر کنٹرول کرسکتی ہے۔
ان کے مطابق ’پہلے بھی جب نوے کےعشرے میں مولانا صوفی محمد نے شریعت کے نفاذ کےلیے اواز اٹھائی تو مالاکنڈ ڈویژن کے عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ لیکن بدقسمتی سے حکومت نے اس وقت لوگوں سے دھوکہ کیا اور وعدوں پر عمل نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب خود لوگوں نے حکومت کے خلاف بندوق اٹھائی ہے اور ڈنڈے کے زور پر حکومت سے اپنے مطالبات منوارہے ہیں‘۔
سوات کی موجودہ صورتحال کو خرابی تک پہنچانے کی ویسے تو کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن ان میں ایک وجہ حکومت کے مطابق علاقے میں قائم غیر قانونی غیر ایف ایم ریڈیو چینلز بھی ہیں جن کی تعداد مالاکنڈ ڈویژن میں پچاس سے زائد بتائی جاتی ہے۔
ایف ایم ریڈیو چینلز کا کردار |
شعبہ صحافت پشاور یونیورسٹی کے لیکچرار سید عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ سوات میں حکومت اور مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے مابین جب ’سرد جنگ‘ شروع ہوئی تو عام لوگ اس کی اطلاعات ایف ایم ریڈیو پر سننے لگے اور اس طرح لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلا اور وہ غیر ارادی طورپر اس چینل کے اثر میں آگئے ہیں۔
دوسری طرف سوات کی تین تحصیلوں مٹہ، خوازہ خیلہ اور مدئن پر اس وقت مقامی طالبان کومکمل کنٹرول حاصل ہے۔ ان علاقوں میں قائم تمام پولیس تھانوں اور سرکاری عمارتوں پر عسکریت پسندوں کا قبضہ ہے جبکہ مقامی طالبان نے یہاں پر شریعت کے عملی نفاذ کےلیے اقدامات کا آغاز بھی کردیا ہے جس سے ان علاقوں میں عسکریت پسندوں کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مٹہ میں ایک مقامی طالب خاکسار کا کہنا ہے کہ جب سے یہاں طالبان نے علاقے کا انتظام سنبھالا ہے اس کے بعد علاقے کے تمام معاملات مقامی کمانڈر خان خطاب طے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لوگ اپنے مسائل کمانڈر کے پاس لاتے ہیں اور وہ انہیں موقع پر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پہلی بار گن شپ ہیلی کاپٹر |
تاہم سوات میں اب تک ہونے والی جھڑپوں میں ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد دعوی سامنے آئے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں ایک سو بیس کے قریب مقامی عسکریت پسند مارے جاچکے ہیں۔ تاہم مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے حالیہ جھڑپوں میں نو جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت جن جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کر رہی ہے وہ ان کے مطابق دراصل عام شہری ہیں جو حکومتی کارروائیوں کے دوران مارے گئے ہیں۔
سوات کے بعد اب یہ کشیدگی ملحق ضلع شانگلہ منتقل ہوچکی ہے جہاں مقامی طالبان نے صدر مقام الپوری پر قبضہ کرلیا ہے۔ بیک وقت دو ضلعوں میں حکومت کی عملداری کو چیلنج کرنے کے بعد اب یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا قبائلی علاقوں کے بعد یہ اگ اب بندوبستی علاقوں تک تو نہیں پھیل جائے گی۔