Monday, 19 November, 2007, 02:20 GMT 07:20 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کو ایمرجنسی اٹھانے کا کوئی وقت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی نائب وزیرخارجہ نیگرو پونٹے نے جنرل پرویز مشرف سے کہا تھا کہ وہ ایمرجنسی جلد از جلد اٹھا لیں اور گرفتار و نظر بند کیے جانے والے مخالفین کو رہا کریں۔
جنوبی ایشیا کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس نے اسلام آباد سے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ نیگرو پونٹے نے جنرل مشرف کو غیر معمولی طور پر سراہتے ہوئے ایک ایسا آدمی قرار دیا جو پاکستان کے لیے اعتدال پسندانہ تصور رکھتا ہے اور شدت پسندی کے خلاف ایک قابلِ بھروسہ اتحادی ہے۔
امریکی سفارتخانے کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکی نائب وزیر خارجہ نے صدر مشرف کے سامنے پاکستان کے لیے امریکی امداد بشمول فوجی امداد کا معاملہ بھی اٹھایا۔
اس اہلکار کے مطابق پاکستانی رہنما کو آگاہ کیا گیا کہ کانگریس کی جانب سے دباؤ ہے کہ کسی قسم کا کوئی قدم اٹھایا جائے جس میں یہ بھی شامل ہے کہ امداد میں کمی کر دی جائے۔
اس دورے کے دوران امریکی نائب وزیر خارجہ نے وائس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق کیانی سے دو ملاقاتیں کیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے جنرل مشرف سے زیادہ وقت جنرل کیانی کے ساتھ گزارا۔
امریکی سفارتکار کا کہنا ہے کہ اسے غیر ضروری قیاس آرائی کی بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے تاہم اس سے اس بات کا اعادہ ضرور ہوتا ہے کہ امریکہ دوسرے سینئر فوجی افسروں سے بھی رابطہ رکھنا چاہتا ہے۔
![]() فوج جنرل مشرف کے ساتھ ہے |
نیوز کانفرنس میں امریکی نائب وزیرخارجہ جان نیگرو پونٹے نے ایک بار پھر جنرل پرویز مشرف پر ایمرجنسی ختم کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایمرجنسی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے جنرل مشرف سے کہا ہے کہ وہ فوج کی قیادت سے دستبردار ہونے کا وعدہ پورا کریں۔
جان نیگرو پونٹے نے کہا کہ ’بدقسمتی سے احتجاج کرنے والوں کے خلاف حالیہ اقدام، میڈیا کو دبایا جانا اور سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم لوگوں کی گرفتاریاں اور نظر بندیاں ان تمام اصلاحات کے منافی ہیں جو حالیہ برسوں کے دوران متعارف کرائی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا ان کا تسلسل اس پیش رفت کو ختم کر دے گا جو پاکستان نے کی ہے‘۔