Monday, 19 November, 2007, 10:04 GMT 15:04 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
نئے پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کی فُل کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر تین درخواستوں کو خارج کردیا ہے جبکہ مخدوم امین نے اپنی درخواست واپس لے لی ہے۔
عدالت نے صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین، پمز ہسپتال کے ڈاکٹر انوارالحق اور جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کی درخواستوں کو درخواست گزاروں کی عدم پیروی کی وجہ سے خارج کیا ہے۔
اس کے علاوہ پیر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار مخدوم امین فہیم نے صدر مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر درخواست بھی واپس لے لی ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے جب پیر کو سماعت شروع کی تو ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ایم ایس خٹک درخواست گزار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ درخواست گزار کے وکیل اس کیس کی سماعت کے لیے عدالت میں حاضر نہیں ہوئے اور نہ ہی اس ضمن میں انہیں درخواست گزار کی طرف سے کوئی ہدایات ملی ہیں۔
ایڈووکیٹ آن ریکارڈ محمد اکرم بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پمز ہسپتال کے ڈاکٹر انوارالحق کے وکیل اے کے ڈوگر اور جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کے وکیل بیرسٹر فاروق حسن بھی ان درحواستوں کی سماعت کے لیے عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی انہیں اس ضمن میں کوئی ہدایات وصول ہوئی ہیں جس پر عدالت نے یہ درخواستیں خارج کردیں۔
ایمرجنسی سے پہلے |
واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے ان کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار مخدوم امین فہیم کی طرف سے درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھیں اور اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک نو رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔ اُس وقت اس بینچ میں شامل جسٹس سردار رضا محمد خان نے بینچ میں بیٹھنے سے معذوری ظاہر کردی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ چونکہ وہ صدر کے دو عہدے رکھنے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر ہونے والے فیصلے میں اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں اس لیے وہ اس بینچ میں نہیں بیٹھیں گے۔
اس کے بعد اس بینچ نے پانچ اکتوبر کو ان درخواستوں کی سماعت پر یہ حکم جاری کیا تھا کہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے عمل کو جاری رکھا جائے تاہم عدالت نےچیف الیکشن کمشنر کو حکم دیا کہ وہ ان درخواستوں کے فیصلے تک کامیاب ہونے والے امیداوار کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرے۔
ایمرجنسی نہیں لگائیں گے |
اس درخواست پر برطرف کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے تین نومبر کو ایک عبوری حکم جاری کیا تھا جس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ ان درخواستوں کی سماعت تک ملک میں ایمرجنسی نہیں لگائے گی۔
لیکن تین نومبر کی رات کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد آئین معطل کردیا گیااور پی سی اور کے تحت حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
ادھر ملک میں ایمرجنسی کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درحواستوں کی بھی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔درخواست گزار ٹکا اقبال محمد خان کے وکیل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن وامان کی صورت حال اتنی خراب نہیں تھی جس کو بنیاد بنا کر ملک میں ایمرجنسی لگائئ جاتی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حالات میں بنیادی انسانی حقوق کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی ۔ وطن پارٹی کے بیرسٹر ظفراللہ خان کل اپنے دلائل دیں گے۔ واضح رہے کہ پہلے ان درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کا فل کورٹ کررہا تھا لیکن اس بینچ میں شامل تین ججوں جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس ایم جاوید بٹر کے اس بینچ میں بیٹھنے سے انکار کے بعد نیا سات رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔