عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام ،پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں حکام کا کہنا ہے کہ درجنوں مشتبہ طالبان نے پیر کی دوپہر کو نائب تحصیلدار سمیت آٹھ سرکاری اہلکاروں کو اغواء کرلیا ہے جبکہ دوسرے ایک واقعہ میں سرکاری ٹیلی ویژن کے مقامی بوسٹر کو بم سے اڑاکر تباہ کردیا گیا ہے۔
پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی دوپہر بارہ بجے 80 کے قریب مبینہ مسلح طالبان نے صدر مقام خار سے تقریباً چوبیس کلومیٹر دور تحصیل ناؤگئی میں واقع سرکاری کالونی پر بھاری ہھتیاروں سے شدید فائرنگ کی جس کے بعد انہوں نے نائب تحصیلدار شہریار، نائب صوبیدار اسماعیل، حوالدار بہادر اور سپاہی سید چارلی کو مبینہ طور پراغواء کر لیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ واردات کے دوران وہاں پر موجود اہلکاروں کو جوابی فائرنگ کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقامی طالبان نے نقاب پہن رکھے تھے اور وہ راکٹ لانچروں سے مسلح تھے ۔ان کے مطابق سرکاری اہلکاروں کے اغواء کے بعد وہ ایک فلائنگ کوچ اور تین پک اپ گاڑیوں میں سوار ہوکر روانہ ہوگئے۔
مہمند ایجنسی میں سرگرم طالبان نے ان اہلکاروں کے اغواء کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مہمند ایجنسی میں طالبان کے سربراہ عمر خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ انکے دس مسلح ساتھیوں نے پیر کی دوپہر کو باجوڑ میں دو مختلف مقامات سے آٹھ حکومتی اہلکاروں کو اغوا کرلیا اور انکے بقول اسکے علاوہ انہوں نے صوبہ سرحد کے علاقے شب قدر سے بھی دو پولیس اہلکاروں کو گزشتہ روز اغوا کیا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان اہلکاروں کو اس لیے اغوا کیا گیا ہے کہ چند روز قبل انکے چار طالبان ساتھیوں کو پولیس نے چکدرہ کے مقام پر گرفتار کر لیا تھا۔
عمر خالد کا مزید کہنا تھا کہ جب تک انکے چار ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا تب تک دس حکومتی اہلکار انکے تحویل میں ہونگے۔
دوسری طرف حکام کا کہنا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو بعض نامعلوم مسلح افراد نے صدر مقام خار سے تقریباً چودہ کلومیٹر دور برنگ کے پہاڑ کی چوٹی پر واقع سرکاری ٹیلی ویژن چینل کے مقامی بوسٹر کو بم سے اڑا کر تباہ کردیا۔انکے مطابق بوسٹر کو اڑانے سے قبل مسلح افراد نے وہاں پر موجود عملے کو کمرے سے نکال کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ باجوڑ میں کافی عرصے کے بعد کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔باجوڑ میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فقیر محمد نے سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن پر ردعمل کے طور پر تین ہفتے قبل حکومت کے ساتھ قبائلی عمائدین کے توسط سے جاری مذاکرات کو معطل کردیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سوات میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسرپیکار طالبان کی مدد کے لیے باجوڑ، مہمنداور ضلع دیر کے دس ہزار طالبان پر مشتمل ایک لشکر تشکیل دیا جائے گا۔