Monday, 19 November, 2007, 13:53 GMT 18:53 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے ہنگامی حالت کے نفاذ کے خلاف تیئس نومبر کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔
یہ اعلان پیر کو اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی دفتر میں اے پی ڈی ایم کے رہنما اور مسلم لیگ(ن) کے چئرمین مسلم راجہ ظفر الحق کی صدارت میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے بعد کیا گیا۔ منتظمین کے مطابق اجلاس میں اتحاد کی تمام پارٹیوں کے مرکزی رہنماؤں یا ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد صحافیوں کو اس کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو کے حالیہ بیانات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ کل جماعتی کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے تاہم اس کانفرنس کی تاریخ، ایجنڈے اور مقام کا تعین باہمی مشاورت سے کیا جائے گا‘۔
یوم احتجاج کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیئس نومبر کو ملک بھر میں جلسے و جلوس منعقد کیے جائیں گے، دھرنے دیے جائیں گے، بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھی جائیں گی اور مکانات پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے۔
انتخابات کے بائیکاٹ کے بارے میں راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات انتخابات کے لیے سازگار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’صاف و شفاف تو کیا موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد ہی ممکن نہیں‘۔
جمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کی اجلاس میں عدم شرکت کے بارے میں راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ مولانا سے عدم شرکت کی وجہ دریافت نہیں کی گئی لیکن ان کے نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے۔
راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کی لگائی ہوئی آگ میں تمام ملک جل رہا ہے اور عوام سراپا احتجاج ہیں۔ تاہم اے پی ڈی ایم کے رہنما نے اس تاثر کو درست قرار نہیں دیا کہ اتحاد مصلحتوں کا شکار ہوکر حکومت کی خلاف نرم رویے کا اظہار کر رہا ہے۔ ’ہمارا احتجاج اور گرفتاریاں تو پہلے دن سے جاری ہیں‘۔