Saturday, 17 November, 2007, 10:45 GMT 15:45 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
باجوڑ میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فقیر محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان شوری کا ایک اجلاس سنیچر کی صبح ایک نامعلوم مقام پر منعقد ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر حکومت نے ضلع سوات میں طالبان کے خلاف جاری مبینہ کارروائی جلد از جلد بند نہیں کی تو باجوڑ، دیر، اور مومند ایجسنی سے تعلق رکھنے والے دس ہزار جنگجوؤں کا ایک لشکر تشکیل دیا جائے گا جس سے سوات میں طالبان کی مدد کے لیے بجھوایا جائے گا۔
مولانا فقیر محمد کا مزید کہنا تھا کہ یہ محض ایک اعلان نہیں ہے بلکہ انہوں نے آپریشن ختم کرنے کے لیے کافی انتظار کیا تاہم اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے اور اب اپنے اس فیصلے کو ہرصورت میں عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
ان کے بقول’ ہم نہیں چاہتے کہ فوج کے ساتھ لڑائی شروع کرکے اپنے ہی گھر کو آگ میں جھونک دیں مگر حکومت نے سوات کو ایک محاذ میں تبدیل کردیا ہے لہذا مجبوری کی وجہ سے ہمیں اس محاذ پر مقامی طالبان کے شانہ بشانہ لڑنا پڑےگا‘۔
واضح رہے کہ باجوڑ اور مومند ایجنسی کے مقامی طالبان نے ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تقریباً تین ہفتے قبل حکومت کے ساتھ جرگے کی توسط سے جاری امن مذاکرات کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
درایں اثنا مرکزی وزارت اطلاعات کے ڈپٹی ڈائریکٹر امجد اقبال نے مینگورہ میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات آپریشن میں اب تک 120 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس مسئلے کے حل کے سلسلے میں مقامی جرگوں کی مدد سے بھی کام جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کے شریعت کے نفاذ کے مطالبے کے سلسلے میں صوبائی حکومت اقدامات کر رہی ہے۔