Saturday, 17 November, 2007, 05:01 GMT 10:01 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصل میر علی میں مرحوم صحافی حیات اللہ کے گھر کے باہر بم کے ایک دھماکے میں ان کی بیوی ہلاک ہو گئی ہیں۔
مرحوم صحافی حیات اللہ کے بھائی احسان اللہ نے بتایا کہ دھماکے گھر کی دیوار کے ساتھ نصب ایک بم سے کیا گیا۔
احسان اللہ نے بتایا کہ دھماکے میں حیات اللہ کے بچے بال بال بچ گئے ہیں۔
احسان اللہ نے اس دھماکے کا ذمہ دار بھی ان ہی لوگوں کو ٹھہرایا جنہوں نے گزشتہ سال حیات اللہ کو اغواء کرکے قتل کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ حیات اللہ کو دسمبر دو ہزار پانچ میں شمالی وزیرستان سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ حیات اللہ کی چھ ماہ تک گمشدگی کے بعد جون میں ان کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی۔
مقامی طالبان نے حیات اللہ کی ہلاکت کی مذمت کی تھی۔
حیات اللہ میر علی میں ایک مکان پر حکومت کی جانب سے القاعدہ کے خلاف کارروائی کی کوریج کے بعد لاپتہ ہوئے گئے تھے۔
حکومت کا بعد میں کہنا تھا کہ مرنے والوں میں القاعدہ کا ایک کمانڈر ابو حمزہ بھی شامل تھا۔ ان ہلاکتوں کی وجوہات اب تک غیرواضح ہیں۔ جس مکان میں یہ ہلاکتیں ہوئیں وہ حیات اللہ کے ماموں کا گھر بتایا جاتا ہے۔
اس واقعے کے بعد حیات اللہ نے اپنی رپورٹوں میں شواہد کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ ہلاکتیں کسی طیارے سے داغے گئے میزائلوں سے ہوئی تھی۔ یہ مؤقف سرکاری بیان کی نفی کرتا ہے جس میں یہ ہلاکتیں مکان میں دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے قرار دی گئی تھیں۔