Friday, 16 November, 2007, 02:22 GMT 07:22 PST
ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سندربن (بنگلہ دیش)
بنگال کے جادو کا ہمیشہ سے سنتے آئے تھے، یہ ہے کیا معلوم نہ تھا۔ لیکن جب دنیا کے سب سے بڑے دریائی جنگل سندربن میں داخل ہوئے تو آبی گزرگاہوں کے دونوں کناروں پر تاحد نظر درختوں کی قطاریں، پرندوں کی آوازیں، پانی پیتے ہرنوں کے غول اور سانس لینے کے لیے سطح آب پر کبھی کبھی نمودار ہوتی ڈولفن نے فطرت کے ایسے طلسم میں مبتلا کر دیا کہ بنگال کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔
سندربن تقریباً دس ہزار مربع کلومیٹر پر محیط مینگروو ہے، جس کا ساٹھ فیصد حصہ بنگلہ دیش اور چالیس فیصد بھارت میں آتا ہے۔ مینگروو ایسے قدرتی جنگل کو کہتے ہیں جو ان علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں دریاؤں کا تازہ پانی سمندر میں داخل ہوتا ہے۔
رائل بنگال ٹائیگر، مگرمچھ، ہرن، بندر اور انواع و اقسام کے پرندے سندربن کے باسی ہیں۔ درختوں اور پودوں کی کئی ایسی اقسام پائی جاتی ہیں جو صرف سندربن میں ملتی ہیں۔ سندربن کے درختوں کی نمایاں خصوصیت ان کی وہ جڑیں ہیں جو نمکیات خارج کرنے اور سانس لینے کے لیے سطح زمین سے سر نکالے نظر آتی ہیں۔
![]() | |
| سندر بن کی چمگادڑیں |
ایک ٹور گائیڈ طارق مرشد کا کہنا تھا کہ اگرچہ سندربن پر سیاحوں کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے لیکن یہ اتنا بڑا جنگل ہے کہ اسے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سندربن کے کسی ایک ہی علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں کی بجائے اگر اسے مختلف علاقوں میں پھپلا دیا جائے تو قدرتی ماحول میں کم خلل پڑے گا۔
![]() | |
| سندر بن کے جنگلوں میں ڈولفن |
ڈاکٹرعتیق کا کہنا تھا کہ عالمی حدت اور اس کے نتیجے میں ہونیوالی ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سندربن کے وجود کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ پہاڑوں پر برف کے پگھلاؤ میں غیر معمولی تیزی، سطح سمندرمیں اضافہ اور تازہ اور نمکین پانی میں بڑھتا ہوا عدم توازن ایسے عوامل ہیں جو اس خوبصورت قدرتی جنگل کے وجود کے درپے ہیں۔
![]() | |
| سندر بن کے مردہ درخت |
سندربن میں گھومتے ہوئے بعض جگہوں پر درختوں کے جھنڈ کے جھنڈ سوکھ کر گرے ہوئے دیکھے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر عتیق نے کہا کہ سائیکلون یا سمندر طوفان اپنے ساتھ ریت لاتے ہیں اور سانس لیتی جڑیں اس کے نیچے دب جاتی ہیں، جس سے درختوں کو آکسیجن نہیں ملتی، نمکیات میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ سوکھ کر گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔
![]() | |
| سندر بن جنگلی حیات سے بھرے ہوئے ہیں |