http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 15 November, 2007, 18:46 GMT 23:46 PST

عباس نقوی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی پریس کلب میں احتجاجی مظاہرہ

کراچی پریس کلب میں ایمرجنسی اور حکومت کی طرف سے میڈیا پر عائد کی گئی پابندیوں کے خلاف صحافی برادری، سول سوسائیٹی گروپس اورٹریڈ یونیینز کا مشترکہ احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سول سوسائیٹی کی نمائندگی انیسہ ہارون اور نازش بروہی کر رہی تھیں جبکہ مزدور تنظیموں کی جانب سے حبیب جنیدی، منظور رضی اور جبار خٹک موجود تھے۔

تقریب کا انعقاد کراچی پریس کلب کے عُقبی حصے میں کیا گیا جہاں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کے مہمان خصوصی جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین تھے۔ شرکاء میں غازی صلاح الدین اور بینا سرور کے علاوہ بیشتر سینئر صحافی بھی شامل تھے۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت کی جانب سے صحافت پر عائد حکومتی پابندیوں پر شدید تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ نہ صرف یہ پابندیاں ہٹا کر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو آزاد کیا جائے بلکہ ایمرجنسیی کے نفاذ کو ختم کیا جائے۔

اس موقع پر کراچی یونین آف جرنلسٹ کے جنرل سیکریٹری جاوید چوہدری نے صحافی تنظیموں کی جانب سے چار قراردیدیں پیش کیں جنہیں شرکاء نے ہاتھ اُٹھا کر منظور کیا۔

مقررین کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ صحافی برادری، سول سوسائیٹی گروپس، وکلاء، اخباری مالکان اور ٹریڈ یونئنز سب مل کرمشترکاء جدوجہد کریں۔

ایک طرف تو پریس کلب کے اندر حکومتی اقدامات کے خلاف قراردیں منظور کی جارہیں تھی جبکہ دوسری جانب باہر پولیس کی بھاری نفری احتجاج کے لیے آنے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو گرفتار کرتی رہی۔

جمعرات کو پولیس نے کراچی پریس کلب کے باہر سے لگ بھگ ایک درجن کارکنوں کو احتجاج کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے۔

دوسری جانب پولیس نے پی پی پی کے سینٹ میں پارلیمانی لیڈر رضا ربانی سمیت متعدد رہنماء اور ممبران اسمبلی اور ایک سو سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔