Thursday, 15 November, 2007, 11:31 GMT 16:31 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
کراچی میں لیاری کے علاقے میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی نظر بندی کے خلاف احتجاج کے دوران دو بچے گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔
پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ پولیس نے احتجاج کرنے والے پارٹی کارکنوں پر گولی چلائی جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔ البتہ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ شر پسندوں کی فائرنگ کے باعث ہوا ہے۔
لیاری میں جمعرات کو بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا، جس کے دوران تانگہ سٹینڈ کے علاقے میں فائرنگ کے دوران دو بچے طفیل اور عبدالرحمان ہلاک ہوگئے، جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شرپسندوں کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے ہیں۔
ایس پی لیاری فیاض خان کا کہنا ہے لیاری میں بھی بھی شدید فائرنگ جاری ہے، احتجاج کی آڑ میں فائرنگ کی جارہی ہے۔
تین روز قبل ایک تھانے اور ایس پی آفس پر بھی فائرنگ کی گئی تھی۔
لیاری سے رکن صوبائی اسمبلی رفیق انجنیئر نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں بچے پولیس فائرنگ میں ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی ہے، جس میں ان بچوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی گالی اور گولی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ہے۔ لیاری میں ایجنسیوں کے لوگ ان پرتشدد احتجاج میں ملوث ہیں، مقامی لوگوں کا اس سے کوئی تعلق ہے۔
یاد رہے کہ بینظیر بھٹو کی لاہور میں نظر بندی کے بعد سے لیاری میں احتجاج جاری ہے جس دوران ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ہے۔
لیاری پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھاجاتا ہے۔ ان کی آمد کے موقع پر یہاں کے لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد استقبال کے لیے پہنچی تھی، اور بینظیر بھٹو کی حفاظت کے لیے بنائی گئی جانثاران بینظیر فورس میں بھی لیاری کے نوجوان شامل تھے۔
اٹھارہ اکتوبر کو ہونے والے بم دھماکے میں بھی لیاری کے دس کے قریب کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
دریں اثناء سب میرین چوک پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکن جیسے ہی احتجاج کے لیے جمع ہوئے تو پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ گرفتار ہونے والوں میں سینٹ میں قائد حزب اختلاف میاں رضا ربانی، رکن قومی اسمبلی یوسف تالپر، شمع مٹھیانی سمیت دو درجن کارکن شامل ہیں۔
ادھر ٹھٹہ، نوابشاھ، چھاچھرو میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں، جس دوران کچھ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔