Wednesday, 14 November, 2007, 02:46 GMT 07:46 PST
پاکستان مسلم لیگ کے جلا وطن رہنما میاں نواز شریف نے بینظیر بھٹو کی طرف سے جنرل مشرف کے مستعفی ہونے کے مطالبے کا خیر مقدم کیا ہے۔
بی بی سی اردو سروس کی ماہ پارا صفدر سے ایک انٹرویو میں میاں نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے ملک میں آمریت کے خاتمے اور جہموریت کی بحالی کے لیے میثاقِ جہموریت پر دستخط کیئے تھے اور آج بھی وہ اس پر کاربند ہیں۔
سعودی عرب سے فون کے ذریعے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس خبر کی سختی سے تردید کی کہ وہ جنرل مشرف کی طرف سے مفاہمت کے لیے بھیجے گئے کسی شخص سے ملنے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نہ انہیں ایسے شخص کے بھیجے جانے کی خبر ہے اور نہ وہ جنرل مشرف کے کسی نمائندے یا ایلچی سے ملاقات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات سالوں میں جنرل مشرف سے مفاہمت کی کئی مرتبہ پیشکش ہو چکی ہے لیکن ان کے بقول انہوں نے اصولی موقف اپنایا ہوا ہے جس سے وہ کسی صورت دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں جنرل مشرف سے براہ راست ملاقات کی پیش کش بھی ہوچکی ہے۔ ایک مرتبہ بینظیر کے ہمراہ ملاقات کرنے کو بھی کہا گیا تھا۔
انتخابات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں عملاً مارشل لاء لگا ہوا ہے، عدلیہ کو نظر بند ہے اور الیکشن کمیشن آزاد نہیں ہے ایسے میں منصفانہ انتخابات کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔
نواز شریف نے کہا کہ وہ اس حق میں ہیں کہ انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے لیکن وہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کےمشورے سے ہی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں اور اس سلسلے میں فیصلہ باہمی صلاح مشورے سے کیا جائے گا۔