شفیع نقی جامعی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد مقبول نے تسلیم کیا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ملک میں اپنے بارے میں پائے جانے والے تاثر سے آگاہ ہے لیکن ملک میں شفاف انتخابات اور دہشتگردی کے خاتمے کے بعد فوج کو دوبارہ عروج حاصل ہوگا۔
بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں گورنر پنجاب نے ایمرجنسی کے جلد خاتمے کا بھی عندیہ دیا۔
’میں یہ بار بار بول رہا ہوں، جنرل مشرف بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ تین نومبر کو یہ ہوا ہے۔ ہمیں صرف چند ہفتے دیں اور آپ دیکھیں گے کہ ہم پھر معمول کی زندگی میں لوٹ جائیں گے۔‘
انہوں نے دولت مشترکہ کی جانب سے ایمرجنسی دس دن کے اندر ختم نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کی رکنیت معطل کرنے کی وارننگ کو غیرمناسب قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ پس پردہ بات چیت اور ملک کو جمہوریت کی جانب لوٹانے کے واضح اقدامات کے ذریعے حکومت پاکستان اس مسئلے کو حل کرانے میں کامیاب ہوجائے گی۔
نجی ٹی وی چینلز اور ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز سے بات چیت ہورہی ہے اور یقین ہے کہ جلد ہی یہ مسئلہ طے ہوجائے گا۔ ’مشرف اس ملک میں آزاد میڈیا کے بانی ہیں تو اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کے دور حکومت میں میڈیا زوال پذیر ہو۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ماضی کی طرح آج بھی پاکستانی فوج کی ملک میں وہی عزت اور ساکھ ہے؟ انہوں نے کہا کہ فوج کے ساتھ پاکستان کے عوام کا محبت کا تعلق ہے۔ ’جب ہم شفاف انتخابات کی جانب جائیں گے اور ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوگا تو آپ دیکھیں گے کہ فوج کو دوبارہ عروج حاصل ہوگا۔‘
اس سوال پر کہ ماضی میں تو شاعر اے وطن کے سجیلے جوانو جیسے نغمے لکھتا تھا جبکہ آج کا شاعر لکھتا ہے کہ چاچا وردی لاندا کیوں نئی۔ ایسا کیوں ہے؟ تو ان کا جواب تھا ” میرے خیال میں فوج کو خود بھی اسکا احساس ہے ہم اس چیز سے کوئی جھگڑا نہیں کرنا چاہتے یہ الیکشن کا دور تھا اس میں ایک عدالتی مسئلہ بھی سامنے آگیا لوگ اس سے ناخوش ہوئے میں اس سے انکار نہیں کرتا۔،،
تاہم انہوں نے کہا کہ جب ہم نارمل صورتحال کی طرف چلیں گے اور لوگ دیکھیں گے کہ فوج نے اپنا کردار ادا کیا اور قربانیاں دیں تو میں شرط لگاسکتا ہوں کہ وہ دوبارہ فوج کو اسی عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔،،
انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ میڈیا کی آزادی موجودہ حکومت کا کارنامہ نہیں بلکہ ایک آئینی حق ہے لیکن ساتھ ہی ذرائع ابلاغ پر تازہ پابندیوں کا دفاع بھی کیا۔