http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 13 November, 2007, 13:59 GMT 18:59 PST

انتخاب امیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’منظم احتجاجی تحریک کی ضرورت‘

مختلف غیر سرکاری تنظیموں، سماجی و سیاسی کارکنوں اور صحافیوں نے منگل کو پشاور میں ایک مباحثہ کے دوران ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف منظم تحریک چلانے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔

آئندہ کے لائحہ عمل کے طور پر طلباء اور اساتذہ تنظیموں کو احتجاج میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد کے تمام ضلعوں میں عوام کو نچلی سطح پر منظم کرنے کے لیے ’سول سوسائٹی ‘ کی تنظیموں، صحافیوں اور وکلاء کے منظم انداز میں کام کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

پاکستان میں ایمرجنسی: خصوصی ضمیمہ
بینظیر کو لاہور میں نظر بند کر دیا گیا
ایمرجنسی کی تصویری کوریج
ایمرجنسی میں آزادانہ انتخابات مشکل: بینظیر
انتخابات جنوری کے پہلے ہفتے میں: مشرف

سماجی اور غیر سرکاری تنظیموں کی مشترکہ تنظیم ’الائینس فار دی پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس‘ نے منگل کے روز پشاور پریس کلب میں ایک مباحثہ کے دوران سیاسی جماعتوں سے وابستہ کارکنوں، صحافی تنظیموں کے نمائندوں اور سماجی کارکنوں سے تجاویز لیں تاکہ عبوری آئینی حکم کے اجراء کے خلاف یکجاء ہو کر منظم تحریک چلائی جا سکے۔

مباحثے کے دوران جہاں موجود افراد نے تین نومبر کے اقدام کو جنرل پرویز مشرف کا ملک میں دوسرا مارشل لاء قرار دیا ، وہیں بیشتر نے اس بات پر زور دیا کہ ’ریاستی جبر‘ کے خلاف معاشرے کے تمام طبقات سے وابستہ افراد کو ایک منظم تحریک چلانی چاہیے۔

مباحثے کے اختتام پر متفقہ قراردادوں کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ آئین اور انسانی حقوق بحال کیے جائیں، تین نومبر کے اقدام سے پہلے والی عدلیہ کو بحال کیا جائے ، سوات اور وزیرستان میں فوج کشی بند کی جائے اور ملک میں آزادانہ بنیادوں پر انتخابات منعقد کیے جائیں۔

منظم تحریک کو یقینی بنانے کے لیے صحافیوں، غیر سرکاری تنظیموں اور وکلاء پر مشتمل بنائی گئی کمیٹی کو کہا گیا کہ وہ جلد از جلد طلباء، اساتذہ اور وکلاء اور دیگر غیر سماجی تنظیموں سے رابطے کر کے احتجاج کا لائحہ عمل مرتب کریں تاکہ عوام کو نچلی سطح پر منظم کرکے ایمر جنسی کے نفاذ کا خاتمہ کیا جائے۔