Monday, 12 November, 2007, 09:07 GMT 14:07 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ انہوں نے صدر پرویز مشرف سے بات چیت کا سلسلہ بند کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نو جنوری سے پہلے کے شیڈول کو تسلیم کرتی ہیں لیکن اس سے پہلے کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے۔
انہوں نے یہ بات مزارِ اقبال پر صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہی۔وہ سانحہء کراچی میں ہلاک ہونے والے پارٹی کے ایک کارکن کے گھر تعزیت کے لیے بھی گئیں۔
بےنظیر بھٹو نے لاہور میں اپنے رفقاء سے لانگ مارچ کے بارے میں صلاح مشورے کیے جہاں تجویز پیش کی گئی ہے کہ لانگ مارچ کو انتخابی مہم کا رنگ بھی دیتے ہوئے وسطی پنجاب کو اس کے روٹ میں شامل کیا جائے۔
پہلے توقع کی جارہی تھی کہ لانگ مارچ منگل کو لاہور سے شروع ہوگا اور اسلام آباد میں دھرنے پر اختتام پذیر ہوگا لیکن اب بعض پارٹی رہنماؤں نے بے نظیر بھٹو سے کہا ہے کہ اس کو انتخابی مہم کا حصہ بھی بنائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اوکاڑہ، قصور، ساہیوال، فیصل آباد سے ہوتی ہوئی گوجرانوالہ جائیں اور وہاں سے شمالی پنجاب کا دورہ کریں۔گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں بےنظیر کے استقبال کی تیاریاں کی جاری ہیں اور استقبالی کیمپ لگائے جارہے ہیں۔
بے نظیر نے کل اپنی پریس کانفرنس میں نو جنوری سے پہلے عام
انتخابات کو مثبت قرار دیا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ ایمرجنسی اور آرمی ایکٹ کی موجودگی میں منصفانہ اور آزادانہ انتخابات ہونا مشکل ہیں۔
بے نظیر نے عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ بے نظیر نے مسلم لیگ قاف کے رہنماؤں پر بھی تنقید کی اور ان کے لیے پنجاب کے سیاسی یتیم کا لفظ استعمال کیا۔ پنجاب حکومت نے فی الحال یہ اعلان کررکھاہے کہ صوبے میں جلوس نکالنے پر پابندی ہےاور مختلف شہروں میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے جس کی سختی سے پابندی کی جائے گی۔
پولیس نے بڑی تعداد میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو حراست میں لے رکھا ہے اور حکومتی عہدیدار کہہ رہے ہیں کہ لانگ مارچ کے لیے پیپلز پارٹی کو مکمل فری ہینڈ نہیں دیا جائے گا۔