Sunday, 11 November, 2007, 19:22 GMT 00:22 PST
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف جو ان دنوں سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں جنرل مشرف کی طرف سے انتخابات کے انعقاد کے اعلان پر کہا ہے کہ یہ کنگز پارٹی کو دھاندلی کے ذریعے جتوانے کا منصوبہ ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کبھی آپ نے سنا ہے کہ ایمرجنسی یا مارشل لا میں انتخابات ہوئے ہوں۔
نواز شریف نے کہا کہ ’یہ عجیب منصوبہ ہے جس میں آزاد عدلیے کو ہٹا کر، من پسند چیف الیکشن کمشنر کو لگا کر، سول سوسائٹی، ہیومن رائٹس اور سیاستدانوں کو قید کر کے کہا جائے کہ الیکشن ہو رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے اور کوئی بھی اسے قبول نہیں کرے گا۔
نواز شریف کہنا تھا کہ ان کی جماعت آل پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کا حصہ ہے اور ان کا الائنس سے مشورے جاری ہیں۔ اگرچہ آزادانہ منصفانہ انتخابات کی کوئی گنجائش دکھائی نہیں لیکن ان کا اولین مطالبہ عدلیہ کی بحالی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ٹھوس موقف ہے کہ جب تک عدلیے بحال نہیں ہوتی، مارشل لاء اور ایمرجنسی نہیں اٹھتے، آزاد و خود مختار الیکشن کمیشن کا تقرر نہیں ہوتا اور جب تک ہمارے مشورے سے نگراں حکومتیں قائم نہیں کی جاتیں اس وقت تک انتخابات بے معنی ہوں گے اور ہم ایسے انتخابات میں ملک کی کیا خدمت کر سکیں گے‘۔
بینظیر کے لانگ مارچ میں شرکت کے حوالے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک لانگ مارچ کا معاملہ نہیں ہے پوری قوم کو لانگ مارچ کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا ’اس میں شک نہیں کہ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن جو کچھ ہو رہا ہے اسے پوری قوم دیکھی رہی ہے اور قوم کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں اگر ان ذمہ داریاں محسوس نہ کی گئیں تو یہ آمریت پورے ملک کو کھا جائے گی‘۔