Sunday, 11 November, 2007, 13:00 GMT 18:00 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو تقریباً نو سال کے بعد پنجاب کے دارالحکومت لاہور پہنچ گئی ہیں۔ائر پورٹ سے وہ سیدھا داتا دربار گئیں جہاں انہوں نے فاتحہ پڑھی اور چادر چڑھائی۔ بے نظیر بھٹو نے کہا ہے لاہور پاکستان کا دل ہے اور یہاں پہنچ کر وہ ایک نیا جذبہ اور طاقت محسوس کررہی ہیں۔
بے نظیر نے کہا کہ عوام فوج سے صرف مادر وطن کےدفاع کا کام لینا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کئی مسائل پیدا ہوچکے ہیں اور ان میں اب عدلیہ کی بحالی کا مسئلہ بھی شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے ایک غیر جانبدار قومی حکومت کے مطالبہ کا آعادہ کیا اور کہا کہ اسی کی موجودگی میں صاف اور شفاف انتخابات ممکن ہیں۔
لاہور کے علامہ اقبال ائر پورٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور پولیس نے ائر پورٹ کے اردگرد تقریباً دس کلومیٹر کے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا مال روڈ سے ائر پورٹ تک کم از کم دس ناکوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ پولیس اہلکار گاڑیاں روک کر صرف ہوائی سفر کے ٹکٹ رکھنے والے کارکنوں کو جانے دے رہے تھے، عام گاڑیوں کو ائر پورٹ کی جانب جانے کی اجازت نہیں تھی۔
حکومت پنجاب نے کہا ہے کہ صوبے میں فی الحال کسی کو جلوس نکالنے کی اجازت نہیں ہے۔ پولیس نے تین چار روز کے دوران صوبہ بھر میں بڑی تعداد میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو پکڑ رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں کی تعداد پانچ ہزار ہے۔
ائر پورٹ پر صحافیوں نے بے نظیر سے پوچھا کہ کیا ان رکاوٹوں میں لانگ مارچ ممکن ہوگا؟ بے نظیر نے جواب دیا کہ اس وقت حکومت شکست خوردہ ہے، اگر لانگ مارچ میں رکاوٹ نہ ڈالی گئی تو عوام کا سیلاب نکلے گا اور اگر رکاوٹ ڈالی گئی تو اسے روکنے کے لیے تعینات پولیس کی بھاری نفری سے اس کی اہمیت اور حثیت کا اندازہ ہوجائےگا۔
لاہور کے سنئیر سپرنٹنڈنٹ پولیس آفتاب چیمہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی بھاری نفری بے نظیر کی حفاظت کے لیے تعینات کردی گئی ہے اور پولیس کمانڈوز سے بھری پانچ گاڑیاں چوبیس گھنٹے ان کے ساتھ رہیں گی۔