Saturday, 10 November, 2007, 20:47 GMT 01:47 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی اپیل پر سنیچر کو اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں میڈیا پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بینظیر بھٹو بھی پہنچیں اور انہوں نے صحافیوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔
اسلام آباد میں درجنوں صحافیوں نے پرائیویٹ ٹی وی چینل کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا اور بعدازاں پاکستان پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے دفتر تک پیدل مارچ کیا۔
احتجاجی صحافیوں نے کالی جھنڈیاں اٹھا رکھی تھیں اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔ وہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف اور صحافت کی آزادی کے حق میں نعرہ لگارہے تھے۔
مظاہرین نے کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن پر احتجاجی نعرے درج تھے۔ احتجاج میں شریک ایک صحافی نےاپنے منہ ماتھے اور سینے پر ایک سٹیکر چسپاں کیا تھا جس پر یہ تحریر تھا کہ فوجی آمریت نامنظور۔مظاہرے میں شریک ایک اور صحافی نے بڑا قلم اٹھا رکھا تھا جسے زنجیریں پہنائی گئی تھیں۔
جب صحافی نجی ٹیلی ویژن کے سامنے دھرنا دے رہے تھے تو پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اچانک وہاں پہنچ گئیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’میڈیا پر جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں یہ پابندیاں قوم پر عائد کی گئی ہیں اور ہم ان پابندیوں کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ہم میڈیا کے ساتھ ہیں کیوں کہ زندہ قوموں کے لئے آزادی صحافت ضروری ہوتی ہے‘۔
انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ’ میں پریس کی آزادی کے لیے صحافیوں کی جدوجہد میں شریک ہوں اور رہوں گی‘۔ بینظیر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی عوام کی طاقت کے ساتھ ملک میں جمہوریت بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کہ ہم اس طاقت کے ساتھ پریس کی آّزادی اور عدلیہ اور قانون کی بالادستی کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں‘۔
اس موقع پر بینظیر بھٹو نے اعلان کیا کہ 13 نومبر کو لاہور میں لانگ مارچ کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اس مارچ کو آزادی کی طرف مارچ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’جب ننگے پیروں والے چل پڑیں گے تو فوجی بوٹ سنا ئی نہیں دیں گے‘۔بینظیر بھٹو کی اپنی مختصر تقریر کے بعد وہاں سے چلی گئیں لیکن صحافیوں کا احتجاج کافی دیر تک جاری رہا۔
یوم احتجاج کے موقع پر لاہور میں بھی صحافیوں نے احتجاج کیا تاہم یہ احتجاج پریس کلب کے اندر ہی کیا گیا کیونکہ پولیس نے پریس کلب کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور کسی صحافی کو پریس کلب سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد ذرائع ابلاغ کے قوانین میں ترمیم کرکے کڑی پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور ملک بھر میں مقامی نجی ٹیلی ویژن کی نشریات سات دن سے بند ہیں۔