Saturday, 10 November, 2007, 12:35 GMT 17:35 PST
انتخاب امیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور
پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبۂ سرحد شاخ کے صدر رحیم داد خان کو چند دیگر پارٹی رہنماؤں سمیت ہفتہ کے روز پشاور میں گرفتار کرلیا گیا۔
ضلع پشاور کے سینئر سپرنٹینڈینٹ پولیس عبدالمجید مروت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رحیم داد خان کو حفاظتی اقدام کے طور پر تحویل میں لیا گیا ہے۔
تاہم پی پی پی کے ضلع پشاور سے تعلق رکھنے والے رہنما ایوب شاہ نے، جو کہ رحیم داد خان کے ساتھ سی آئی ڈی پولیس سٹیشن پشاور میں تھے، بی بی سی کو بتایا ہے کہ صوبائی صدر رحیم داد خان اور پارٹی رہنما فرید طوفان کو ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کیا جارہا ہے۔ اُن کے مطابق آٹھ دوسرے گرفتار رہنماؤں کے بارے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔
ایس ایس پی عبدالمجید مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الحال رحیم داد خان کے خلاف نہ تو کوئی پرچہ کاٹا گیا ہے اور نہ ہی اُنھیں صوبہ سرحد میں واقع کسی دوسری جیل منتقل کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔
جب ان سے پوچھا کہ کیا رحیم داد خان کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کیا گیا ہے تو انھوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اُن کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ابھی دیکھ رہے ہیں کہ کیا کریں‘۔
ہفتہ کی دوپہر دو بجے پی پی پی کے صوبائی صدر نے پشاور پریس کلب میں پریس کا نفرنس کرنی تھی۔ تاہم وہ وقت سے کافی پہلے ہی پریس کلب آگئے اور اس کے فوراٌ بعد پریس کلب کے باہر موجود پولیس کی نفری میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ساتھ ہی پولیس افسران نے پریس کلب میں گھس کر رحیم داد خان کو پریس کانفرنس سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ پریس کلب میں موجود صحافیوں نے پولیس کو پریس کلب سے نکل جانے کو کہا۔
پریس کانفرنس ختم ہونے پر جب پی پی پی کے صوبائی صدر اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کلب سے نکلے تو اُن کو معمولی مزاحمت کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری سے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رحیم داد خان نے حکومت پر ریاستی دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کوشش کی کہ وہ اپنےگھر سے پریس کلب نہ پہنچ سکیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت پی پی پی کی رہنما بے نظیر بھٹو کے لانگ مارچ کے اعلان سے بوکھلا گئی ہے اور اس احتجاج کو روکنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔