Saturday, 10 November, 2007, 18:01 GMT 23:01 PST
نواز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں بینظیر بھٹو کے ساتھ مصالحت اور مل کر جنرل مشرف کے اقتدار کے خلاف جدوجہد کرنے کی بات کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ خط بی بی کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے اے پی سی کی ’خواہش‘ کے جواب میں لکھا۔
میاں نواز شریف نے بینظیر بھٹو کو پیشکش کی ہے کہ ان کی پاکستان مسلم لیگ اور اے پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں ان کا ساتھ دینےکو تیار ہو سکتی ہیں بشرطیکہ بینظیر بھٹو چار نکات پر آمادگی ظاہر کریں۔ ان چار نکات میں آئین کی بحالی، ایمرجنسی کا خاتمہ، آزادانہ انتخابات، الیکشن کمیشن کا قیام اور ذرائع ابلاغ کی آزادی جیسے نکات شامل ہیں۔
اس حوالے سے جب پیپلز پارٹی کی قیادت سے اس خط پر رد عمل جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو بینظیر بھٹو کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا انہیں فی الحال خط وصول نہیں ہوا اور خط ملنے کے بعد ہی بینظیر بھٹو اپنا جوب دے سکیں گی۔
نواز شریف نے اپنے خط میں بینظیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ نے صدر مشرف کی طرف سے وعدے پورے نہ کیے جانے کی صورت میں تیرہ نومبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے‘۔ نواز شریف نے بینظیر سے کہا کہ وہ ان ’وعدوں‘ کے بارے میں انہیں اعتماد میں لیں۔
جدہ سے بی بی سی اردو سروس کے شاہ زیب جیلانی سے بات کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا: ’بینظیر بھٹو نے اب اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہتی ہیں اور پاکستان میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد دیکھنا چاہتی ہیں۔ ہم پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ کے خلاف ایک جمہوری جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ اگر اب ہم سب مل کر ساتھ چلنے کا فیصلہ کر رہے ہیں تو اس سے بہتری کی امید کرنی چاہیے‘۔
جنرل پرویز مشرف کے خلاف مہم میں بینظیر کی قیادت میں تحریک چلانے کے امکان کے بارے میں ایک سوال پر ان کا کہنا تھا: ’کون آگے اور کون پیچھے والی بات نہیں ہے۔ یہ پاکستان کا معاملہ ہے۔ کسی کو بھی اپنی ذات کو آگے نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ اگر ذات ہے تو پھر خدانخواستہ پاکستان نہیں ہے‘۔
بینظیر بھٹو پر اعتماد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ایک شخص نے اپنی ذات کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ایسے میں ہم ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کریں گے تو پھر کیا کریں گے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں بھی ایک دوسرے پر اعتبار کرنا چاہیے کیونکہ یہ ملک کا معاملہ ہے‘۔
لندن میں اے پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت بینظیر کے ایم ایم اے کے ساتھ نہ بیٹھنے کے بارے میں ایک سوال پر میاں نواز شریف کا کہنا تھا: ’اگر بینظیر آل پارٹیز کانفرنس کی بات کر رہی ہیں تو پھر تو آل پارٹیز کانفرنس میں ایم ایم اے اور دیگر مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ اگر وہ چاہتی ہیں کہ اس کا اجلاس ہو تو پھر سب کے ساتھ ہی بیٹھنا پڑے گا‘۔