http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 10 November, 2007, 13:43 GMT 18:43 PST

بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان

اصل چیف جسٹس افتخار چودھری ہیں: بےنظیر بھٹو

سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو اسلام آباد میں سنیچر کے روز ایک غیراعلانیہ پروگرام کے تحت اچانک معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملنے کے لیے ان کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوگئیں۔

لیکن ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق پولیس نے انہیں جسٹس افتخار چودھری کی رہائش گاہ سے دو سو گز کے فاصلے پر سڑک میں رکاوٹیں کھڑی کرکے روک دیا جہاں بےنظیر بھٹو نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کے اصل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہی ہیں۔

بےنظیر کی مہم، وکلاء سڑکوں پر
ڈپٹی اٹارنی جنرل مستعفی ہوگئے
خلیل رمدے، فقیر کھوکھر کی ملاقات
پی پی پی کی ریلی کوشش اور گرفتاریاں
پاکستان میں ایمرجنسی:خصوصی ضمیمہ

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما کا کہنا تھا کہ انہیں پولیس جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملنے جانے سے روک رہی ہے جبکہ وادئ سوات میں مولانا فضل اللہ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر نے پیپلز پارٹی کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو سنیچر کی شام کو اسلام آباد میں تعینات 75 غیر ملکی سفیروں سے ملاقات کرنے والی ہیں۔ پی پی پی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق غیر ملکی سفیروں سے بینظیر بھٹو کی ملاقاتیں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوں گی۔

جسٹس جاوید اقبال نظر بند
سنیچر کے روز پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کو کوئٹہ پہنچا دیاگیا جہاں انہیں کوئٹہ کینٹ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔

ہفتہ کی صبح اسلام آباد سے کوئٹہ پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 363 کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا گیا جہاں سے انہیں ایک کالے رنگ کی گاڑی میں پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ائیر پورٹ سے سیدھا کوئٹہ کینٹ میں واقع ان کی سرکاری رہائش گاہ پہنچادیا گیا۔

ادھر سپریم کورٹ کے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف لینے والے جج جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے معزول جج جسٹس خلیل الرحمان رمدے سے لاہور میں ملاقات کی ہے۔ ایک سرکاری ترجمان نے سنیچر کے روز ان خبروں کی تردید کی کہ جسٹس رمدے کے انکار کی وجہ سے یہ ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔

جمعہ کے روز بینظیر بھٹو کو اسلام آباد میں ان کے گھر پر تین دن کے لیے نظربند کر دیا گیا تھا اور ان کےگھر کے گرد سکیورٹی دستوں کا گھیرا تھا جبکہ لیاقت باغ کے قریب پی پی پی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں اور سینکڑوں کارکنوں کوگرفتار کیا گیا۔ بینظیر کی نظربندی کی احکامات جمعہ کی شام کو واپس لے لیے گئے تھے۔

امریکہ نے بینظیر بھٹو کی نظر بندی کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کو نقل و حرکت کی آزادی دے دی جانی چاہیے۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی ان سات خواتین ارکان اسمبلی کو بھی رہا کر دیا ہے جنہیں گزشتہ روز راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف حصوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔

وکلاء کے مظاہرے، ایمرجنسی اٹھانے کا عندیہ
دوسری طرف اٹارنی جنرل ملک قیوم نے عندیہ دیا کہ ملک سے ایمرجنسی ایک ماہ کے اندر اٹھائی جا سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہو رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ اس میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سکیورٹی میں اسی طرح بہتری آتی رہی تو ایمرجنسی ایک ماہ کے اندر اٹھا لی جائے گی۔

ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر سے پیپلز پارٹی کے پانچ ہزار کارکن گرفتار کیےگئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے متعدد شہروں سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں کو حراست میں لے کے تھانوں اور حوالات میں بند کر دیا گیا۔

ادھر کراچی میں وکلاء برادری نے ملک کے دیگر حصوں کی طرح عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ ہفتہ کو بھی جاری رکھا۔ وکلاء کی قیادت جو اب تک گرفتار نہیں ہوئی اتوار کو اپنے اجلاس کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اجلاس اتوار سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں سنیچر کو پولیس اور رینجر کی بھاری نفری عدالتِ عالیہ کے دونوں داخلی دروازوں پر تعینات تھی تاکہ وکلاء کی جانب سے کسی بھی ممکنہ احتجاج کو ناکام بنایا جا سکے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اختر حسین نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ جو وکلاء اب تک گرفتار نہیں ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں اور مستقبل کے لائحہ عمل کے لئے فیصلے کریں گے جس کا اعلان اتوار تک کردیا جائے گا۔