Saturday, 10 November, 2007, 14:13 GMT 19:13 PST
عامر احمد خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان پیپلز پارٹی کا راولپنڈی کا جلسہ ریاستی جبر کی نذر ہونے کے بعد پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو ابھی پنجاب میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ تو نہیں کرپائیں لیکن اپنی نو سالہ جلاوطنی ختم کرنے کے بعد اٹھارہ اکتوبر کو پاکستان واپس آنے سے لے کر اب تک وہ بتدریج اپنی سیاست کی رفوگیری میں لگی ہیں۔
اس کوشش میں بے نظیر بھٹو کو ابھی تک خاطرخواہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ان کی ان سیاسی کامیابیوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب کراچی میں ان کے استقبالیہ جلوس پر ہونے والے خودکش حملوں کے بعد پی پی پی کے ورکرز کی جانب سے کوئی پرتشدد جوابی کارروائی نہ ہوئی۔
یہ پاکستان پیپلز پارٹی کی غیرانتہاپسند اور نسبتاً پرامن سیاست کا واضح ثبوت تھا جسے جو بھی دیکھنا چاہتا درجنوں ٹی وی چینلز پر براہ راست دیکھ سکتا تھا۔
پی پی پی کا یہ اوتار دیکھنے والوں کا اس وقت ماتھا ٹھنکا جب بے نظیر بھٹو قومی مفاہمتی آرڈیننس کا سپریم کورٹ میں فیصلہ ہونے کے دوران اچانک دبئی روانہ ہوگئیں۔ کہا گیا کہ وہ مفاہمتی آرڈیننس کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹوں کے دور ہونے تک شاید واپس نہ آئیں۔ یوں انہیں افتخار محمد چودھری کی سپریم کورٹ کا اتنا ہی مخالف بتایا گیا جتنا صدر جنرل پرویز مشرف۔
لیکن ایمرجنسی کے نفاذ کے فوراً بعد پاکستان واپس آنا اور پھر اسلام آباد میں پی سی او کی غیرمشروط واپسی کے مطالبے نے بھی ان کی محلاتی سازشوں میں الجھی سیاست کی مزید رفوگیری کی۔
راولپنڈی کا جلسہ ہوا نہ ہوا، نو نومبر کو پوری دنیا کے میڈیا پر یہ جلسہ سب سے بڑی کہانی رہا۔
اسلام آباد میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے دوران وہ میڈیا پر چھائی رہیں لیکن صرف بیان بازی کی حد تک نہیں۔ انہوں نے آج صحافیوں کے احتجاج اور پھر چیف جسٹس کے گھر جا کر صدر جنرل پرویز مشرف کے دوسرے پی سی او کے دو بڑے شکاروں کو اپنی سیاسی حمایت دی ہے۔
اس دوران انہوں نے بی بی سی کو کہا کہ صدر مشرف اور حکومت پنجاب کی سیاست میں کیا فرق رہ گیا ہے، اس کا فیصلہ تجزیہ کار خود کریں۔
یہ تو معلوم نہیں کہ تجزیہ کار کیا فیصلہ کرتے ہیں لیکن بے نظیر نے آج پھر سے صدر مشرف کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ وہ ان کو یا اپنے موجودہ سیاسی حلیفوں میں سے کسی ایک کو چن لیں۔ شاید ان کی خواہش ہو کہ آنے والے دنوں میں کسی ممکنہ مفاہمت کی شرط بھی یہی ہو۔