http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 10 November, 2007, 23:57 GMT 04:57 PST

آرمی ایکٹ ترمیمی آرڈیننس جاری

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان آرمی ایکٹ مجریہ انیس سو باون میں ترامیم کے لیے نیا ترامیمی آرڈینینس جاری کر دیا ہے۔

ان ترامیم کے بعد پاکستانی فوج کسی بھی ایسے شہری پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلا سکے گی جو فوج پر حملہ کرنے میں ملوث پایا جائے گا یا وہ دہشتگردی میں ملوث ہوگا۔

نئے ترامیمی آرڈینینس کے مطابق پاکستان کے سکیورٹی ادارے بشمول انٹر سروسز انٹیلیجینس ایجنسی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شبہے میں کسی بھی شخص کو زیرحراست لے سکیں گے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل نے گزشتہ روز بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان آرمی ایکٹ انیس سو باون میں نئی ترامیم کا مقصد فوج پر حملے کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لانا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ملک قیوم نے کہا تھا کہ ملک میں جیسے جیسے دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور فوج کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اسی طرح گورنمنٹ کو اپنی رٹ بھی زیادہ بڑھانی پڑ رہی ہے اور ان دفعات کا صرف ان لوگوں پر اطلاق ہو گا جو دہشت گردی کے ایسے واقعات میں ملوث ہوں گے جن کا نشانہ فوج ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ صرف دہشت گردوں پر ان دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفعات صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو دہشت گردی بھی کرتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ ان کے بنیادی اور انسانی حقوق بھی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ قانون میں کچھ سقم موجود تھے اُن کو دور کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ دہشتگردی کی عدالتیں اپنا کام جاری رکھیں گی جبکہ فوجی عدالتوں میں انہیں افراد کو لایا جائے گا جنہوں نے فوج کے اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی کی کوئی کارروائی کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے خلاف جو بھی جرم ہوتا ہے اسے سویلین عدالتیں ٹرائل نہیں کرتیں بلکہ ان کا کورٹ مارشل ہی ہوتا ہے۔